خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 373
خطبات مسرور جلد دہم 373 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جون 2012ء حضرت امیر خان صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ 1925ء میں جبکہ بوجہ زیادتی اخراجات کے انجمن میں تخفیف ہوئی اور میں بھی تخفیف میں آ گیا اور اخراجات خانگی نے مجھے از حد پریشان کیا تو میں نے اس تنگی میں سوائے خدا کے آستانے کے اور کوئی چارہ کار نہ دیکھا۔لہذا ئیں اُس کی جناب میں جھک گیا۔یہاں تک کہ رمضان المبارک آگیا اور اس میں مزید دعاؤں کی توفیق ملی اور پھر جب اعتکاف میں اور بھی سوز و گداز کے ساتھ دعاؤں کا موقع میسر آیا تب پنجابی میں اُن کو الہام ہوا کہ ہم وٹ زمانہ کٹ، بھلے دن آون گئے لیکن جب اس بشارت پر بھی عرصہ گزرگیا اور تنگی نے بہت ستایا تو فارسی میں بشارت ہوئی۔د غم مخور زانکه در این تشویش خور می وصل یار می بینم۔چنانچہ اس بشارت کے چند دن بعد خدا تعالیٰ نے مجھے لڑکا عطا کیا جس کا نام محمود احمد ہے۔اور اس کے بعد میں اگست 1926ء کو محکمہ اشتمال اراضیات میں بمشاہرہ ( تنخواہ ) نوے روپے ماہوار سب انسپکٹر ہو گیا۔یعنی خدا تعالیٰ نے تیس روپیہ ماہوار کی بجائے نوے روپیہ ماہوار عطا فرما دیئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 6 صفحہ نمبر 152-151 روایت حضرت چوہدری امیر خان صاحب) حضرت بابوعبد الرحمن صاحب ، حضرت چوہدری رستم علی صاحب کے ساتھ اپنے ایک سفر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں اور چوہدری صاحب اور دو تین اور احمدی ایک تانگے میں بیٹھ کے قادیان پہنچ گئے۔یہ سڑک اول دفعہ دیکھی تھی۔اتنے دھکے لگتے تھے کہ بس الامان۔بدن چور ہو جا تا تھا۔سارے رستے میں گڑھے پڑے ہوئے تھے۔سڑک کیا مثل ایک کچی گوہر کے تھی۔پھر اس کے بعد تو جب تک ریل تیار ہوئی اسی راستے سے کبھی تانگے میں اور کبھی پا پیادہ قادیان آتے رہے۔ہاں تو قادیان پہنچ کر مہمان خانے میں ہم ٹھہرے۔بعدہ میں اور چوہدری صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت صاحب مسجد مبارک کی چھت پر جو موجودہ مسجد مبارک کی شمال کی طرف مختصر سی جگہ بشکل مسجد تھی ، تشریف فرما تھے اور تقریبا دس بارہ دوسرے احباب حاضر تھے جن میں مولوی حکیم نور الدین صاحب رض اور مولوی عبد الکریم صاحب بھی تھے۔بعد مصافحہ چوہدری صاحب نے میرا تعارف کرایا۔میں نے حقیرسی رقم جو ایک رومال میں بند تھی حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کی۔حضور نے رومال لے کر رکھ لیا۔تھوڑی دیر کے بعد میری درخواست پر حضور نے بیعت لی اور بعد بیعت ہونے کے سب حاضرین نے دعا کی۔پھر حضرت صاحب سے رخصت ہو کر ہم کچے رستے سے بٹالہ پہنچے۔پھر بٹالہ سے بذریعہ ریل اپنے گھر پر بٹالہ شہر میں پہنچ گئے۔چونکہ تعمیر مکان کے دوران میں ہم اس کام کو بیچ میں چھوڑ کر قادیان چلے