خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 369 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 369

خطبات مسرور جلد دہم 369 24 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جون 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة اسم الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 15 جون 2012ء بمطابق 15 احسان 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن - لندن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعا کی حقیقت بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : یہ بھی لازم ہے کہ (ایک انسان ) جیسے دنیا کی راہ میں کوشش کرتا ہے، ویسے ہی خدا کی راہ میں بھی کرے پنجابی میں ایک مثل ہے 'جو منگے سو مر رہے مرے سومنگن جا فرمایا : ”لوگ کہتے ہیں کہ دعا کرو۔دعا کرنا مرنا ہوتا ہے۔اس پنجابی مصرعہ کے یہی معنی ہیں کہ جس پر نہایت درجہ کا اضطراب ہوتا ہے وہ دعا کرتا ہے۔دعا میں ایک موت ہے اور اس کا بڑا اثر یہی ہوتا ہے کہ انسان ایک طرح سے مرجاتا ہے۔مثلاً ایک انسان ایک قطرہ پانی کا پی کر اگر دعوی کرے کہ میری پیاس بجھ گئی ہے یا یہ کہ اسے بڑی پیاس تھی تو وہ جھوٹا ہے۔ہاں اگر پیالہ بھر کر پیوے تو اس بات کی تصدیق ہوگی۔پوری سوزش اور گدازش کے ساتھ جب دعا کی جاتی ہے حتی کہ روح گداز ہو کر آستانہ الہی پر گر جاتی ہے اور اسی کا نام دعا ہے اور الہی سنت یہی ہے کہ جب ایسی دعا ہوتی ہے تو خداوند تعالیٰ یا تو اسے قبول کرتا ہے اور یا اسے جواب دیتا ہے۔( ملفوظات جلد نمبر 2 صفحہ 630۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) یعنی اس دعا کی قبولیت ہوگی یا پھر اللہ تعالیٰ بتا دیتا ہے کہ نہیں، یہ دعا اس رنگ میں قبول نہیں ہوگی۔پس یہ دعا کی حقیقت ہے۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو صرف سطحی دعا نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتے ہوئے ، یہ ایمان رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ دعائیں قبول کرتا ہے اور پھر اس ایمان کے ساتھ مکمل طور پر ڈوب کر دعا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے کسی معاملے میں مدد اور رہنمائی چاہتی ہو، یا اپنی پر یشانیوں کا حل کروانا ہو، یا خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنا ہوتو یہ سب باتیں اُسی وقت ہوتی ہیں جب اپنی تمام تر طاقتوں اور استعدادوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے آگے جھکا جائے ، اُس کے حضور دعائیں کی