خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 367
خطبات مسرور جلد دہم 367 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 جون 2012ء بعضوں کو مشکلات سامنے آئیں ، وہ نہ آتیں۔اسی طرح بعض غیر ملکی مہمانوں کی طرف سے بھی شکایت ہے۔بعض غیر ملکی یورپ کے دوسرے ملکوں سے نو مبائع آئے ، اُن کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا جس کی وجہ سے ایک آدھ تو ناراض ہو کر واپس بھی چلے گئے۔اول تو جس ملک سے آئے تھے، اُن کے امیر اور مربی کا یا نگران کا کام تھا کہ ساتھ لائے تھے تو پوری مدد کر نی چاہئے تھی۔اور اگر ساتھ نہیں آئے تھے تو پھر ملنے کی جگہ اور انتظامات کی مکمل معلومات انہیں فراہم کرنی چاہئیں تھیں۔پھر شعبه استقبال اور مہمان نوازی کا بھی کام ہے۔رہائش کے شعبہ کا بھی کام ہے کہ پارکنگ وغیرہ میں مکمل رابطہ ہوتا اور رہنمائی کا انتظام ہوتا۔اسی طرح نو مبائعین یا مہمان جو لائے گئے اُن کی جلسہ کے بعد واپسی کا ٹرانسپورٹ کا بھی باقاعدہ انتظام نہیں تھا۔بعض کو رات دس بجے تک انتظار کرنا پڑا۔حالانکہ شعبہ استقبال کو واپسی کے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا چاہئے تھا۔بہر حال اگر چند ایک کو بھی ان انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے کسی بھی قسم کی تکلیف سے گزرنا پڑا تو یہ قابل توجہ ہے۔اس کی اصلاح کی آئندہ کوشش ہونی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مہمانوں کی مہمان نوازی کا واقعہ تو ہم سناتے ہیں کہ کس طرح منی پور سے مہمان آئے ہنگر خانے میں آکر اُترے اور وہاں خدمتگاروں نے اُن کا سامان نہیں اُتارا۔کہہ دیا کہ خود ہی سامان اُتار و یا اور کچھ باتیں ہوئیں۔وہ ناراض ہو کر چلے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علم میں جب آیا تو آپ بڑی تیزی سے اُن کے پیچھے پیچھے گئے اور بڑے فاصلے پر جا کر، کہتے ہیں نہر کے قریب جا کر، ٹانگے میں جارہے تھے اُن کو روکا اور وہاں جا کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام واپس لے کر آئے ، اور وہاں آکے خود ہی اُن کا سامان اُتارنے لگے۔(ماخوذ از سیرت المہدی جلد دوم حصہ چہارم صفحہ نمبر 56-57 روایت نمبر 1069) تو یہ نمونے ہیں مہمان نوازی کے جو ہمارے سامنے ہیں۔اس کو ہمیشہ جماعتی شعبوں کو جماعتی نظام کو اور ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔پس ہمیں اپنے معیاروں کو بلند کرنے کی ضرورت ہے۔میں نے شروع میں بھی پہلے خطبہ میں وہاں جرمنی میں ان باتوں کی طرف مختصراً توجہ دلائی تھی۔اگر کچھ نہ کچھ اُس پر غور کیا ہوتا تو بعض جگہ جو کمیاں ہوئی ہیں یا بعضوں کو جو تکلیف پہنچی ہے، یہ نہ ہوتی۔ان چیزوں۔انتظامیہ کے جو دوسرے اچھے کام ہوتے ہیں، اُن کا بھی اثر زائل ہو جاتا ہے۔تمام دنیا میں جلسے ہوتے ہیں۔یہاں یو کے میں بھی انشاء اللہ تعالیٰ جلسہ ہوگا جواب تقریباً مرکزی