خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 350
خطبات مسر در جلد دہم 350 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جون 2012ء پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دوسرے مذاہب کے مقابلے میں اسلام کی خوبی ط بیان کرتے ہوئے ،مسلمانوں کی خوبی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : قرآن شریف نے جس قدر والدین اور اولاد اور دیگر اقارب اور مساکین کے حقوق بیان کئے ہیں میں نہیں خیال کرتا کہ وہ حقوق کسی اور کتاب میں لکھے گئے ہوں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَمى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُختَالًا فَخُورًا (النساء: 37) تم خدا کی پرستش کرو اور اُس کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھہراؤ، اور اپنے ماں باپ سے احسان کرو اور اُن سے بھی احسان کرو جو تمہارے قرابتی ہیں۔(اس فقرہ میں اولاد اور بھائی اور قریب اور دور کے تمام رشتے دار آ گئے ) اور پھر فرمایا کہ یتیموں کے ساتھ بھی احسان کرو اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور جو ایسے ہمسایہ ہوں جو قرابت والے بھی ہوں اور ایسے ہمسایہ ہوں جو محض اجنبی ہوں اور ایسے رفیق بھی جو کسی کام میں شریک ہوں یا کسی سفر میں شریک ہوں یا نماز میں شریک ہوں یا علم دین حاصل کرنے میں شریک ہوں اور وہ لوگ جو مسافر ہیں اور وہ تمام جاندار جو تمہارے قبضہ میں ہیں سب کے ساتھ احسان کرو۔خدا ایسے شخص کو دوست نہیں رکھتا جو تکبر کرنے والا اور شیخی مارنے والا ہو، جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 208-209) پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں : اُس کے بندوں پر رحم کرو اور اُن پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو۔اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو۔اور کسی پر تکبر نہ کرو گو وہ اپنا ماتحت ہو۔اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔۔۔۔۔بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو، نہ اُن کی تحقیر۔اور عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو، نہ خود نمائی سے اُن کی تذلیل۔اور امیر ہوکر غریبوں کی خدمت کرو، نہ خود پسندی سے اُن پر تکبر۔ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 11-12) پس یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی اپنی جماعت کے افراد کے لئے تعلیم اور دلی کیفیت کا اظہار ہے تا کہ نہ صرف یہ کہ دنیا کے سامنے ایک پاک نمونہ قائم کرنے والے ہوں بلکہ ہم اللہ تعالیٰ کا رحم حاصل کرنے والے بھی بن جائیں۔ایک حدیث میں آتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رحم