خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 347 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 347

خطبات مسرور جلد دہم 347 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جون 2012ء کے لئے اس زمانے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوا اور ہمارے بعض افراد کی کیا حالت ہے۔اُن کو دیکھ کر غیر کیا کہیں گے کہ تمہارے دعوے کیا ہیں اور تمہارے لوگوں کے عمل کیا ہیں؟ پس اگر ہم نے دنیا میں انقلاب کا ذریعہ بنا ہے تو پھر اپنی زندگیوں میں بھی ، اپنی حالتوں میں بھی وہ انقلابی کیفیت طاری کرنی ہوگی جس کی زمانے کے امام نے اسلام کی خوبصورت تعلیم کی روشنی میں ہم سے توقع کی ہے۔پھر اس حدیث میں ایک نصیحت ( باقیوں کو میں چھوڑتا ہوں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ فرمائی ہے کہ ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرو۔“ اس کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ سودے کو خراب کرنے کے لئے، اپنے دلی بغض اور کینے کا اظہار کرنے کے لئے سودا بگاڑنے کی کوشش نہ کرو۔اپنے بہتر وسائل اور ذرائع کی وجہ سے سودا خراب کرنے کی نیت سے کسی چیز کی زیادہ قیمت نہ لگالو۔بلکہ اس ارشاد میں بڑی وسعت ہے۔بعض دفعہ دیکھنے میں آتا ہے کہ مثلاً کسی نے ایک جگہ رشتہ کیا ہے۔وہ بات چل رہی ہوتی ہے تو اُس پر اور رشتہ لے کر دوسرا فریق پہنچ جاتا ہے۔ایک تو اگر علم میں ہو تو رشتے پر رشتہ کسی احمدی کو نہیں بھیجنا چاہئے ، نہ لڑکی والے کو لے جانا چاہئے ، نہ لڑکے والوں کو۔دوسرے جس لڑکی اور لڑکے کے رشتے کی بات چل رہی ہے انہیں بھی اور اُن کے گھر والوں کو بھی پہلے آئے ہوئے رشتے کے بارے میں دعا کر کے فیصلہ کرنا چاہئے اور بعد میں آنے والے رشتے کوسوچنا بھی نہیں چاہئے ، سوائے اس کے کہ دعاؤں کے بعد پہلے رشتے کی دل میں تسلی نہ ہو۔پھر بعض دفعہ یہ صورتحال بھی بنتی ہے کہ ایک لڑکی کا رشتہ کسی لڑکے سے آیا ہے اور لڑکے یا اُس لڑکی کے گھر والوں سے کسی تیسرے شخص کو بخش ہے تو لڑکی کے گھر والوں کے پاس پہنچ جاتے ہیں کہ اُس میں فلاں فلاں نقص ہے اور اس سے بہتر رشتہ میں تمہیں بتا دیتا ہوں ، اس کا انکار کر دو۔اور وہ بہتر رشتہ کبھی پھر بتایا ہی نہیں جاتا۔اور یوں حسد، کینے، بغض اور تقویٰ میں کمی کی وجہ سے دو گھروں کو برباد کیا جاتا ہے۔پھر بعض دفعہ لڑکی والوں اور لڑکی کو بدنام کرنے کے لئے اس طرح کے حربے استعمال کئے جاتے ہیں اور بیچاری لڑکیوں کو بدنامی کے داغ لگائے جاتے ہیں اور یہ سب حسد کا نتیجہ ہے۔گویا ایک گناہ کے بعد دوسرا گناہ پیدا ہوتا چلا جاتا ہے۔لڑکیوں پر الزام تراشی کی جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے رسول کے اس حکم پر عمل کریں کہ اپنے دلوں کو تقویٰ سے پر کرو۔ہر معاملے میں تقویٰ کا اظہار اور استعمال کرو اور تقویٰ کا معیار تمہارے لئے وہ اسوہ حسنہ ہے جس کے بارے میں قرآنِ کریم میں خدا تعالیٰ نے تمہیں بتا دیا ہے کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: 22)۔