خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 344
خطبات مسر در جلد دہم 344 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جون 2012ء کہ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے اور ہونا چاہئے۔حدیثیں پڑھنے، سنانے اور سنے کا فائدہ تبھی ہے جب اُن پر عمل کرنے کی بھی پوری کوشش ہو۔عہدیداروں کو اپنا کردار بہر حال بہت بلند رکھنا چاہئے۔لوگ باتیں بھی کرتے ہیں لیکن ایک عہدیدار کا کام ہے کہ حو صلے سے کام لے اور کبھی ایسے شخص کے لئے بھی اپنے جذبۂ ہمدردی کو نہ مرنے دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” غصہ کوکھالینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے۔مجموعہ اشتہارات جلد اول 362 اشتہار التوائے جلسہ 27 دسمبر 1893ء اشتہار نمبر 117 مطبوعہ ربوہ) اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی بھی وضاحت ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے۔پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے غصہ کو قابو میں رکھے۔“ (صحیح بخاری کتاب الادب باب الحذر من الغضب حدیث : 6114) غصہ قابو میں ہو تبھی انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوتے ہیں اور تبھی ہمدردی کے ساتھ فیصلے بھی ہوتے ہیں۔پس یہ معیار ہے جو ہمارے عہدیداران کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ باتیں جو میں کہہ رہا ہوں، صرف جرمنی کے عہدیداران کے لئے نہیں ہیں بلکہ میرے مخاطب تمام دنیا کے جماعتی عہد یداران ہیں۔انگلستان کے بھی ، پاکستان کے بھی ، ہندوستان کے بھی اور امریکہ اور کینیڈا کے بھی اور آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے بھی اور افریقہ کے بھی۔یہ وضاحت میں اس لئے کر رہا ہوں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جہاں خطبہ دیا جا رہا ہے وہیں کے لوگوں کی ایسی حالت ہے۔جبکہ جیسا عام خطبات میں جماعت کا ہر فرد مخاطب ہوتا ہے اسی طرح اگر کسی مخصوص طبقے کے بارے میں بات ہے تو وہ دنیا میں جہاں بھی ہیں وہ سب مخاطب ہیں۔کیونکہ اب اللہ تعالیٰ نے ایم ٹی اے کے ذریعے سے بھی خلیفہ وقت کو اپنی بات پہنچانے کا ایک آسان ذریعہ مہیا فرما دیا ہے اور یہ سہولت مہیا فرما دی ہے۔اس لئے مختلف جگہوں پر مختلف باتیں ہوتی رہتی ہیں اور مخاطب تمام دنیا کی جماعتیں ہوتی ہیں۔ہاں یہ یقیناً اُس ملک کی سعادت ہے۔اگر میں جرمنی میں مخاطب ہوں تو جرمنی والوں کی سعادت ہے یا اُن لوگوں کی سعادت ہے جو میرے سامنے بیٹھے ہوں اور براہ راست بات سُن رہے ہوں اور وہ اپنے آپ کو سب سے پہلا مخاطب سمجھیں۔لیکن ہمیشہ یادرکھیں کہ جو شرائط بیعت میں نے پڑھی ہیں وہ کسی خاص طبقے کے لئے نہیں یا کسی مخصوص قسم کے لوگوں کے لئے نہیں ہیں بلکہ ہر احمدی ان کا مخاطب ہے۔ہر وہ شخص مخاطب ہے جو اپنے آپ کو نظامِ