خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 342
خطبات مسرور جلد دہم 342 خطبه جمعه فرموده مورخہ یکم جون 2012ء اب دیکھیں اگر یہ جذبہ ہمدردی ہر احمدی میں پیدا ہو جائے اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے وہ حقوق ادا کرنے کی کوشش کرے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ جماعت میں جھگڑوں اور مسائل کا سامنا ہو۔نظام جماعت کے سامنے مسائل پیدا کئے جائیں۔خلیفہ وقت کا بہت سا وقت جو ایسے مسائل کو نپٹانے، یا مہینہ میں کم از کم سینکڑوں خطوط اس نوعیت کے پڑھنے اور اُن کا جواب دینے یا انہیں متعلقہ شعبے کو مارک کرنے میں خرچ ہوتا ہے وہ کسی اور تعمیری کام میں خرچ ہو جائے جو جماعت کے لئے مفید بھی ہو۔خلیفہ وقت کے پاس جب ایسے معاملات آتے ہیں تو اُس نے تو ایسے معاملات کو بہر حال دیکھنا ہی ہے۔انتظامی بہتری کے لئے بھی دیکھنا ہے۔اصلاح کے لئے بھی اور ہمدردی کے جذبے کے تحت بھی کہ کہیں کوئی احمدی خود غرضی میں پڑ کر اپنے حقوق کی فکر کر کے اور دوسرے کے حقوق مار کر ابتلاء میں نہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب نہ بن جائے یا کسی ظلم اور زیادتی کا نشانہ کوئی مظلوم نہ بن جائے۔بعض مرتبہ ایسے معاملات بھی ہوتے ہیں کہ لوگ فیصلہ کو مانتے نہیں۔جماعتی فیصلہ یا خلیفہ وقت کے فیصلہ کو مانتے نہیں ہیں۔مشورے کو مانتے نہیں ہیں۔سمجھانے پر راضی نہیں ہوتے۔ہٹ دھرمی اور ضد دکھاتے ہیں۔اُن کو پھر سختی سے جواب دینا پڑتا ہے۔اور میں بعض اوقات ایسے لوگوں کو جواب دیتا ہوں کہ پھر ٹھیک ہے، اگر تم یہ فیصلہ ماننے کو تیار نہیں تو پھر جماعت بھی تمہارے معاملات سے کوئی تعلق نہیں رکھے گی یا بعض دفعہ سخی بھی کی جاتی ہے اور سزا بھی دی جاتی ہے لیکن جذ بہ ہمدردی ایسے لوگوں کے لئے دعا پر بھی مجبور کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور یہ دنیاوی معاملات کی وجہ سے دین کو پس پشت ڈال کر اپنی عاقبت خراب نہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ ناجائز تکلیف نہیں دے گا اس سے یہی مراد ہے کہ بعض اوقات معاملات میں دوسرے کو تکلیف تو پہنچ سکتی ہے اور وہ جائز ہوتی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اس کا ایک تو مطلب یہی ہے کہ جان بوجھ کر اور ارادہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچانی اور یہی ایک مومن کی شان ہے کہ کبھی ارادہ کسی کی تکلیف کا باعث نہ بنے اور کبھی بنا بھی نہیں چاہئے۔دوسرے یہ کہ بعض اوقات بامر مجبوری بعض ایسے اقدام جو نظام جماعت کو یا خلیفہ وقت کو کرنے پڑتے ہیں جو دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں لیکن یہ تکلیف اصلاح کی غرض سے ہوتی ہے۔یہ تکلیف اصلاح کی غرض سے دی جاتی ہے اور یہ نا جائز نہیں ہوتی۔لیکن اس صورت میں بھی ہمدردی کے جذبہ کے تحت جس کو کسی سزا یا