خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 335 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 335

335 خطبه جمعه فرموده مورخہ 25 مئی 2012ء خطبات مسرور جلد دہم پہلے بھی انتہا ہی ہے، کہ پھر اس کے بعد ایک ڈرم میں ڈال کر راجن شاہ میں نہر میں پھینک دیا۔اتفاق سے نہر بند تھی ،ور نہ تو نہر میں نعش کا پتہ ہی نہیں لگنا تھا۔اگلے روز پولیس نے بتایا کہ نعش ملی ہے اور پھر لواحقین چہرہ سے تو پہچان نہیں سکے تھے۔اتنی زیادہ بری حالت کی ہوئی تھی کہ مسخ کیا ہوا تھا۔اُن کے کپڑوں سے اور اور نشانیوں سے لواحقین نے پہچانا۔امیر صاحب کی رپورٹ کے مطابق کہتے ہیں کہ جماعتی مخالفت نہیں ہے لیکن میرا خیال ہے کہ جماعتی مخالفت ہی تھی کیونکہ شریف النفس تھے۔کسی سے کوئی ایسا واسطہ نہیں تھا اور اس سے پہلے ان کے کسی رشتہ دار کو بھی فائر کر کے اسی طرح زخمی کیا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان دشمنوں کو بھی جلد عبرت کا نشان بنائے اور احمدیت کے حق میں بڑے واضح نشانات ظاہر فرمائے اور جلد ظاہر فرمائے۔ہمیشہ یادرکھیں کہ ایسی حالت میں جب تک دعاؤں کی طرف توجہ نہیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے نشان نہیں مانگیں گے اُس وقت تک وہ کامیابیاں ہمیں نظر نہیں آئیں گی جن کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔عموماً جو کامیابیاں نشانوں کے بعد ملتی ہیں وہی ایک واضح اور ایسی کامیابیاں ہوتی ہیں جود شمن کو بھی نظر آرہی ہوں تو پھر ہی دشمن حق کو تسلیم کرتا ہے۔ایک خارق عادت قسم کی کامیابیاں تب ملتی ہیں جب ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی عاجزی سے جھکنے والے ہوں گے، دعائیں مانگنے والے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اور اُس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق بھی عطا فرمائے۔مرحوم کے برادر نسبتی عارف احمد گل صاحب مربی سلسلہ ہیں، انہوں نے بھی ان کی بڑی خوبیاں بیان کی ہیں اور بڑی محبت کرنے والے تھے۔ان کی اہلیہ محترمہ کے علاوہ چھ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔بڑے بیٹے کی عمر اٹھارہ سال ہے اور چھوٹے بچے کی عمر دو سال ہے۔اس کے درمیان باقی بچوں کی عمریں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی اپنی حفاظت میں رکھے۔دوسرا جنازہ امتہ القیوم صاحبہ کا ہوگا جور بوہ کی رہنے والی تھیں اور شیخ عبدالسلام صاحب کی اہلیہ تھیں۔جو 3 مئی کو وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ ربوہ میں آباد ابتدائی خاندانوں میں سے ایک تھیں۔موصیہ تھیں۔ان کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔اُن کے ایک بیٹے عبدالحفیظ صاحب یہاں ہیں اور اسی طرح ہالینڈ میں بھی ہیں ، ربوہ میں بھی ہیں۔ان کے دونو اسے جامعہ احمدیہ یو کے میں پڑھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔“ (الفضل انٹر نیشنل مورخہ 15 جون تا 21 جون 2012 جلد 19 شمارہ 24 صفحہ 5 تا9)