خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 334
خطبات مسرور جلد دہم 334 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012 ء ذکر کر کے فرماتے ہیں کہ امتہ الحفیظ حضور کی اولاد میں سے سب سے چھوٹی تھی ) فرمایا کہ اگر امۃ الحفیظ کی 66 بیعت کی جاتی تو میں اُس کی ایسی ہی اطاعت کرتا جیسی کہ مسیح موعود علیہ السلام کی۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 283 روایات حضرت صوفی غلام محمد صاحب) اللہ تعالیٰ ان تمام صحابہ کے درجات بلند سے بلند تر فرما تا چلا جائے اور جس طرح ان کی خواہش تھی کہ یہ اگلے جہان میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہوں، یہ خواہشات بھی پوری فرمائے۔ان کی نسلوں کو بھی وفا اور اطاعت کے طریق پر قائم رکھے۔ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم کامل اطاعت کے ساتھ اس زمانے کے امام کے ساتھ تعلق قائم رکھنے والے ہوں۔آپ نے اپنے مخلصین کے لئے جو دعائیں کی ہیں ، اُن کے بھی ہم وارث بنیں۔اور آپ کے بعد آپ کے ذریعے سے قائم ہونے والی قدرت ثانیہ کے ساتھ بھی وفا، محبت اور اطاعت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے ہوں۔جیسا کہ حضرت خلیفتہ اسیح اول کا ارشاد میں نے پڑھ کر سنایا کہ کامل اطاعت کرنی ہوگی۔اور خلافت کے ساتھ مجڑ کر اُس جماعت کا حصہ بنیں جس نے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننا ہے کیونکہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کے فضل نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ابھی میں جمعہ کی نماز اور نماز عصر کے بعد دو جنازے پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ تو ایک شہید مکرم طارق احمد صاحب ابن مبارک احمد صاحب کا ہے۔ان کی پیدائش لیہ کے ایک گاؤں کی ہے۔طارق صاحب کی پیدائش سے دو مہینے پہلے ان کے والد مبارک صاحب وفات پا گئے تھے۔مکرم طارق صاحب کی عمر اکیالیس (41) سال تھی۔بڑے ذہین اور قابل انسان تھے۔17 مئی 2012 ء کو طارق صاحب سودا سلف لینے کے لئے کہروڑ ضلع لیہ میں گئے اور کچھ جو کاروباری لوگ تھے اُن کے پیسے بھی واپس کرنے تھے۔واپسی پر تقریباً چار بجے فون کیا کہ سبزی وغیرہ لے لی ہے کوئی اور چیز تو نہیں لینی؟ اُس کے بعد ان سے پھر کوئی رابطہ نہیں ہوا۔شام تک رات تک گھر نہیں پہنچے۔فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔بہر حال بعد میں یہ پتہ لگا کہ اُن کو واپسی پر آتے ہوئے کچھ نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا اور کسی نامعلوم جگہ پر لے گئے اور ہاتھ پاؤں باندھے ہوئے تھے اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔تشدد کے دوران مرحوم کا ایک پاؤں بھی توڑ دیا۔ایک کندھا اور پسلیاں بھی توڑی ہوئی تھیں۔دونوں گھٹنوں پر کیلوں کے نشان تھے۔آنکھ پر بھی بڑی کاری ضرب تھی۔سر پر بھی بے انتہا تشد دتھا اور تشدد کے بعد پھر سر پرانہوں نے فائر کیا اور ان کو شہید کر دیا انا للهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔پھر ظلم کی اور بر بریت کی انتہا یہ ہے، وہ تو خیر