خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 333
خطبات مسرور جلد دہم 333 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012ء میاں شرافت احمد صاحب اپنے والدہ حضرت مولوی جلال الدین صاحب مرحوم کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے والد صاحب کی بہت عقیدت تھی اور حضور بھی اُن پر خاص نظر شفقت فرمایا کرتے تھے۔حضرت مولوی صاحب کی والدہ صاحبہ اعوان قوم سے تھیں، اور مولوی صاحب بھی اس قوم سے تھے۔(مولوی جلال الدین صاحب بھی اعوان قوم سے تھے ) اس لئے حضرت مولوی صاحب ان سے محبت کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔آپ کو حضرت خلیفہ اسیح الاول کی طرف سے یہ حکم تھا کہ جب قادیان آؤ تو یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں بیٹھو، اور اُس کے بعد میرے پاس بیٹھو۔اس کے سوا کسی اور جگہ جانے کی تم کو اجازت نہیں ہے۔والد صاحب بیان کیا کرتے تھے کہ میں ایسا ہی کیا کرتا تھا۔والد صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے رمضان شریف بھی قادیان میں گزارا۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحه 277 حالات مولوی جلال الدین صاحب مرحوم) ย حضرت سر محمد ظفر اللہ خان صاحب ولد چوہدری نصر اللہ خان صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُن دنوں علاوہ مطب کے کام کے اس کمرے میں جہاں اب حکیم قطب الدین صاحب کا مطلب ہے مثنوی مولانا روم کا درس دیا کرتے تھے۔مجھے اپنے والد صاحب کے ہمراہ آپ کی صحبت کا بھی ان ایام میں موقع ملتا رہا۔مجھے خوب یاد ہے کہ بعض دفعہ اس درس کے دوران میں کوئی آدمی آکر کہ دیتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام باہر تشریف لے آئے ہیں تو یہ سنتے ہی حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ درس بند کر دیتے اور اُٹھ کھڑے ہوتے اور چلتے چلتے پگڑی باندھتے جاتے اور جوتا پہنے کی کوشش کرتے ، اور اس کوشش کے نتیجے میں اکثر آپ کے جوتے کی ایڑیاں دب جایا کرتی تھیں۔جب آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو جب تک حضور آپ کو مخاطب نہ کرتے آپ کبھی نظر اُٹھا کر حضور کے چہرہ مبارک کی طرف نہ دیکھتے۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 248-249 روایات حضرت سر محمد ظفر اللہ خان صاحب) حضرت صوفی غلام محمد صاحب فرماتے ہیں ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد روایت لکھنے والے نے لکھا ہے ) کہ سب نے مولوی نور الدین صاحب کی بیعت کر لی اور مولوی صاحب نے فرمایا۔کل میں تمہارا بھائی تھا۔آج میں تمہارا باپ بن گیا ہوں۔تم کو میری اطاعت کرنی ہوگی۔امة الحفیظ سب سے چھوٹی تھی ، حضور کی اولاد میں سے، یعنی حضرت خلیفہ اول امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا