خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 332
خطبات مسر در جلد دہم 332 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012ء دودھ مہیا کرو، چاہے کتنا ہی خرچ ہو۔میں نہیں چاہتا کہ حضرت صاحب کا آدمی خالی ہاتھ جائے۔(وہاں ہو سکتا ہے کوئی مہمان آیا ہو، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس کے لئے منگوا یا ہو ) میں دوڑا اور مہمان خانے کے سامنے جو گھر ہیں اُن میں سے ایک کو جگایا۔اُس نے بھینس سے دودھ نکالنے کی کوشش کی اور خدا نے کیا دودھ نکل آیا ( عمو مالوگ شام کو بھینسیں دوہ لیتے ہیں لیکن رات کو پھر دوبارہ دوہا تو دودھ نکل آیا ) اور مولوی صاحب بہت خوش ہوئے۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 385 روایات حضرت حافظ جمال احمد صاحب) حضرت حافظ جمال احمد صاحب فرماتے ہیں کہ مولوی غلام محمد صاحب مرحوم نے بیان کیا کہ ایک دفعہ بٹالہ کے ایک صاحب ( میں اُن کا نام بھول گیا ہوں )۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اجازت سے حضرت خلیفہ اول کو اپنا ایک بیمار دکھانے کے لئے بٹالہ لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب! شام تک تو آپ واپس آجائیں گے۔مولوی صاحب نے فرمایا جی حضور! آجاؤں گا۔خدا کی شان بٹالہ پہنچ کر ایسی بارش ہوئی کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہو گیا۔اسی ہی حالت میں شام کو مولوی صاحب قادیان پہنچ گئے۔گھٹنے گھٹنے پانی چلنا پڑا۔پاؤں میں کانٹے بھی چھ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو علم ہوا تو افسوس کیا اور فرمایا: مولوی صاحب! میرا منشاء یہ تو نہ تھا۔آپ نے اتنی تکلیف کیوں اُٹھائی۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 386 روایات حضرت حافظ جمال احمد صاحب) حضرت میاں عبدالعزیز صاحب المعروف مغل صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مولوی نورالدین صاحب اپنے مطب میں بیٹھے ہوئے تھے۔قریب بارہ ایک بجے کا وقت تھا۔گرمیوں کے دن تھے۔حضرت ام المومنین نے اندر سے ایک خادم بھیجا اور اُس نے آکر کہا کہ مولوی صاحب! حضرت اُم المومنین فرماتی ہیں کہ آکر میر ا فصد کھول دو۔فرمایا کہ اتاں کو جا کر کہہ دو کہ اس بیماری میں اس وقت فصد کھولنا طب کی رو سے سخت منع ہے۔پھر وہ کچھ دیر کے بعد اندر سے آئی۔پھر اُس نے یہی کہا۔حضرت مولوی صاحب نے پھر بھی یہی جواب دیا۔پھر کچھ دیر کے بعد حضرت میاں محمود احمد صاحب تشریف لے آئے۔اُن کو حضرت مولوی صاحب نے گود میں لے لیا اور پوچھا میاں صاحب! کس طرح تشریف لائے؟ فرمایا کہ ابا کہتے ہیں کہ آکر فصد کھول دو۔تو مولوی صاحب اُسی وقت چلے گئے اور آ کر فصد کھول دیا۔جب جانے لگے تو ایک شخص غلام محمد صاحب نے کہا کہ آپ تو فرماتے تھے منع ہے۔فرمایا : اب طب نہیں اب تو حکم ہے۔(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد 9 صفحہ 45 تا 46 روایات میاں عبدالعزیز صاحب )