خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 331 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 331

خطبات مسرور جلد دہم 331 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012ء اور تیسری بات کبھی جھوٹ نہیں بولنا۔اور یہ فرما کر مجھے اجازت دے دی۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 193 تا 195 روایات میاں سو ہنے خاں صاحب سکنہ میٹیانہ) تو یہ تین نصیحتیں ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنی چاہئیں۔حضرت فضل الہی صاحب ولد محمد بخش صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور اماں جان سیر کرتے ہوئے ہمارے گاؤں آئے۔جب واپس جانے لگے تو حکم کیا کہ پانی پلاؤ۔( حضرت اماں جان کو پیاس لگی۔اُن کی بھی اطاعت کا چھوٹا سا واقعہ ہے)۔میری والدہ صاحبہ نے مجھے گلاس میں پانی ڈال کر دیا اور کہا کہ لے جاؤ۔میں جلدی سے اُن کے پاس پانی لے گیا اور اماں جان اور حضرت صاحب راستے میں کھڑے تھے۔اماں جان کو میں نے پانی دیا۔انہوں نے پکڑ کر پینا شروع کیا۔حضرت صاحب نے صرف اتنا لفظ کہا کہ پانی بیٹھ کر پینا چاہئے۔اماں جان نے صرف ایک گھونٹ پانی پیا تھا۔یہ بات سن کر فوراً بیٹھ گئے اور باقی پانی بیٹھ کر پیا۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحه 353 روایات حضرت فضل الہی صاحب) حضرت نظام الدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ اُس زمانے میں دستور تھا کہ پہلے سب مہمان گول کمرہ میں جمع ہو جایا کرتے تھے۔حضرت اقدس فداہ ابی واقی کو اطلاع پہنچائی جاتی کہ حضور تمام خادم حاضر ہیں۔ایک دن حضرت اقدس پہلے ہی تشریف فرما ہو گئے تو حضرت خلیفہ اول حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابھی تشریف نہ لائے تھے۔اس غلام کو حضور نے فرمایا کہ جاؤ مولوی صاحب کو بلا لاؤ۔بندہ دوڑتا ہوا مطب میں گیا اور حضرت اقدس کا ارشاد عرض کیا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے (سوال کیا ) کہ حضرت صاحب تشریف لے آئے ہیں؟ بندے نے کہا: ہاں اور کہا کہ جناب کو یاد فرمایا ہے۔اس پر حضرت خلیفہ اول مطب سے دوڑ پڑے اور گول کمرہ تک دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے۔مجلس میں حضرت خلیفہ اول عموماً سرنگوں رہتے تھے (نیچا سر کئے بیٹھے رہتے تھے ) سوائے اس صورت کے کہ حضرت اقدس خود مخاطب فرما ئیں ورنہ دیر تک سرنگوں رہتے تھے۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 3 صفحہ 106 تمہ روایات نظام الدین صاحب) حضرت حافظ جمال احمد صاحب فرماتے ہیں کہ بیان کیا مجھ سے مولوی غلام محمد صاحب مرحوم نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کی طرف سے رات کے گیارہ بارہ بجے کوئی حضرت خلیفہ اول کے گھر دودھ مانگنے آیا۔مولوی صاحب نے مجھے فرمایا کہ ہمارے گھر میں تو دودھ نہیں ، مگر جس طرح بھی ہو کہیں سے جلد