خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 329 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 329

خطبات مسر در جلد دہم 329 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012 ء تھا اور کئی سو سال قبل آیا تھا۔نیز انہوں نے بتلایا کہ اصل قبر نیچے ہے۔اس میں ایک سوراخ تھا جس سے خوشبو آیا کرتی تھی لیکن ایک سیلاب کا پانی آنے کے بعد یہ خوشبو آنی بند ہوگئی۔میں نے یہ تذکرہ بھی حضرت مولوی صاحب سے کیا ( یعنی حضرت خلیفہ مسیح الاول سے ) اس واقعہ کو ایک عرصہ گزر گیا اور جب مولوی صاحب ملازمت چھوڑ کر قادیان تشریف لے گئے تو ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں جس میں حضرت مولوی صاحب بھی موجود تھے ، حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ مجھے وَ أَوَيْنَهُما إلى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينِ (المؤمنون : 51) سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کسی ایسے مقام کی طرف گئے جیسے کہ کشمیر ہے۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے خانیار کی قبر والے واقعہ کے متعلق میری روایت بیان کی۔حضور نے مجھے بلایا اور اس کے متعلق مجھے مزید تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔چنانچہ میں نے مزید تحقیق کر کے اور کشمیر میں پھر کر پانچ سوساٹھ علماء سے اس قبر کے متعلق دستخط کروا کر حضور کی خدمت میں پیش کئے ، جسے حضور نے پسند فرمایا۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 70، 71 روایات حضرت خلیفہ نورالدین صاحب سکنہ جموں) رض حضرت سید تاج حسین بخاری صاحب فرماتے ہیں کہ جب حضرت اقدس سیالکوٹ میر حامد شاہ صاحب کے مکان پر فروکش تھے تو میں حضور کی خدمت میں بوساطت اپنے نانا جان حضرت سید امیر علی شاہ صاحب حاضر ہوا۔حضور نے اپنی بیعت میں لیا اور فرمایا : قادیان آکر تعلیم حاصل کرو، تم ولایت کا تاج ہو گے۔چنانچہ میں 1906ء میں قادیان تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل ہو گیا اور اکثر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا اور کئی بار سیر میں بھی شامل ہوا۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحه 152 روایات سید تاج حسین صاحب بخاری بی اے، بی ٹی ) حضرت میاں سوہنے خان صاحب فرماتے ہیں کہ کمترین 1899ء میں ریاست پٹیالہ میں محکمہ بندو بست میں ملازم ہوا اور کام پیمائش کا کرتارہا۔شیخ ہاشم علی سنوری گرد اور قانون گو تھے۔ہماری پڑتال کو آیا اور کام دیکھ کر بہت راضی ہوا۔انہوں نے بیان کیا کہ تمہارے سے قادیان کتنی دور ہے؟ میں نے عرض کیا کہ تمیں کوس ہے۔شیخ صاحب موصوف نے فرمایا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خادم ہوں۔میں نے جواب دیا ( یعنی اُس وقت یہ احمدی نہیں تھے ناں تو ان کا لہجہ کیا تھا) کہ ایک مرز اصاحب چوہڑوں کا پیر ہے۔ایک عیسی بن گیا۔( نعوذ باللہ ) اور دولت اکٹھی کر رہے ہیں۔چند روز گزرے تو موضع ہٹ میں ایک بزرگ ولی اللہ کی مزار دیرینہ ہے ( پر انا مزار ہے ) جس کا نام فتح علی شاہ ہے۔میری خواب