خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 328 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 328

خطبات مسرور جلد دہم 328 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012ء علیہ الصلوۃ والسلام نے اس رقعہ کے جواب میں زبانی ہی کہلا بھیجا کہ ہاں وہ جاسکتے ہیں۔میری طرف سے اجازت ہے۔پھر میں اُن کے ساتھ کپورتھلہ گیا اور وہاں چھ مہینہ کے قریب درس و تدریس اور تبلیغ کا کام کرتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اجازت اور حضور کے ارشاد سے یہ پہلا موقع تھا جو مجھے میسر آیا جس میں میں نے محض اسلام کی خدمت کے لئے سفر کیا۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 10 صفحہ 18 تا 19 روایات حضرت مولانا غلام رسول را نیکی صاحب) حضرت میاں خیر الدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ کرم دین والے مقدمہ کے دوران میں گورداسپور تھا۔مغرب کا وقت تھا۔حضور نے فرمایا کہ فیروز الدین صاحب ڈسکوی نہیں آئے۔( کیونکہ اُن کی صبح شہادت تھی ، وہ احمدی نہیں تھے مگر اخلاص رکھتے تھے)۔پھر حضور نے مولوی صاحب سے فرمایا کہ کوئی ایسا شخص بلاؤ جو مولوی نور احمد لودھی منگل والے کو جانتا ہو۔میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضور! میں جانتا ہوں۔فرمایا ابھی جاؤ اور کل نو بجے سے پہلے اُن کو ساتھ لاؤ۔میں رات رات پہنچا اور کچھ دیر ایک کھالی پر ( پانی کا نالہ جو تھا۔یہ زمینوں پر پانی لگانے کے لئے ہوتے ہیں ) آرام کیا۔علی اصبح گاؤں میں پہنچا۔مولوی صاحب نماز کے بعد طالبعلم کو سبق پڑھا رہے تھے۔مجھے دیکھ کر دور سے ہی خیریت پوچھی اور فرمایا کیسے آئے؟ میں نے کہا گورداسپور سے آیا ہوں۔حضور نے بلایا ہے۔مولوی صاحب نے فوراً کتاب بند کر دی اور یہ آیت پڑھی - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلهِ وَ لِلرَّسُوْلِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحييكُمْ (الانفال : 25) یعنی اے مومنو! اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کی بات سنو، جب وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے پکارے۔کہتے ہیں گھر بھی نہیں گئے۔سیدھے میرے ساتھ چل پڑے اور نو بجے کے قریب ہم پہنچ گئے۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 23 روایات میاں محمد خیر الدین صاحب ولد میاں جھنڈا خاں) حضرت خلیفہ نورالدین صاحب سکنہ جموں فرماتے ہیں کہ جن دنوں میں شہر کی گشت کی ملازمت پر تھا تو جہاں جاتا، قبور کے متعلق وہاں کے لوگوں اور مجاوروں سے سوال کرتا اور حالات معلوم کرتا اور بعض اوقات اُن کا ذکر حضرت مولانا نورالدین صاحب ( یعنی حضرت خلیفہ اوّل) سے بھی کرتا۔ایک دفعہ میں محلہ خانیار ( سرینگر) سے گزر رہا تھا کہ ایک قبر پر میں نے ایک بوڑھے اور بڑھیا کو بیٹھے دیکھا۔میں نے اُن سے پوچھا کہ یہ کس کی قبر ہے؟ تو انہوں نے بتلایا کہ ”نبی صاحب“ کی ہے۔اور یہ قبر یوز آسف شہزادہ نبی اور پیغمبر صاحب کی قبر مشہور تھی۔میں نے کہا یہاں نبی کہاں سے آیا۔تو انہوں نے کہا یہ نبی بہت دور سے آیا