خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 327
خطبات مسرور جلد دہم 327 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012ء خرید لے۔یہ کہہ کر میں چلا آیا اور جی میں کہتا تھا کہ الہی ! بغیر تیرے فضل کے یہ مجھے نہیں مل سکتا۔میرے چلے آنے پر سب گا ہک منتشر ہو گئے اور پیراں دتہ وہاں کھڑا رہا، جب گڈے والا حیران ہوا کہ کوئی لینے والا نہیں تو پیراں دتہ نے کہا کہ میرے ساتھ گڈا لے چلو میں تم کو ایک روپیہ بارہ آنے دلواؤں گا۔گڑے والا اُس کے ساتھ ہولیا۔میں اُس وقت مسجد مبارک پر دعا کر رہا تھا۔جو میں نے سنا کہ پیراں دیتہ کہتا ہے کہ گڈا آگیا ، اس کو سنبھال لیں۔گڈانگر خانے میں پہنچا کر میں نے سوچا کہ حضرت صاحب کو اطلاع کر دی جائے کہ حکم کی تعمیل ہو گئی ہے۔مگر دل میں پھر خیال آیا کہ یہ کیا کام ہے جس کی اطلاع دینی واجب ہوگی۔خود خدا تعالیٰ حضرت اقدس کو بتلا دے گا۔میرے اطلاع دینے کی ضرورت نہیں۔صبح کو حضرت اقدس سیر کے لئے تشریف لے گئے۔جب ڈھاب کی طرف سے ایک سڑک کا معائنہ کر کے جو میر صاحب نے بنوائی تھی ، واپس تشریف لائے تو بطور لطیفے کے حضور نے فرمایا کہ یہاں ایک مہدی حسین آیا ہوا ہے، ہم نے اُس کو ایندھن لانے کے لئے کہا تھا مگر وہ شخص کہتا ہے کہ جب تک مجھے الہام نہیں ہو گا ( جس طرح اُس عورت نے سنایا جا کے ) میں یہ کام نہیں کروں گا۔اس پر سب لوگ ہنس پڑے۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعد رجسٹرنمبر 1 صفحہ 282 تا287۔روایات میر مہدی حسین صاحب خادم السح) لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ کا سلوک دیکھیں، کچھ اُن کی مجبوریاں تھیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی ذات کا ثبوت دینا تھا۔کس طرح ان کی دعا کی بھی قبولیت ہوئی اور سارا انتظام بھی ہو گیا۔حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں دارالامان میں ہی تھا۔یہ غالباً 1905ء کا واقعہ ہے کہ میاں عبد الحمید خان صاحب کپور تھلوی جو خان صاحب میاں محمد خان صاحب کے فرزند اکبر ہیں۔وہ میاں محمد خان صاحب جن کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ازالہ اوہام میں خاص الفاظ میں تعریف فرمائی ہے۔خان صاحب عبدالحمید خان نے مجھے کہا کہ آپ کپور تھلے میں چلیں اور وہاں کچھ روز ہمارے پاس بغرض درس و تدریس اور تبلیغ قیام کریں۔میں نے عرض کیا کہ میں در الامان میں ہی قیام رکھوں گا اور جانا پڑا تو واپس وطن کو جاؤں گا۔اس پر انہوں نے کہا کہ اگر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عریضہ لکھ کر آپ کے نام حکم لکھا دوں تو کیا آپ پھر بھی نہ جائیں گے۔میں نے کہا پھر میں کیسے نہیں جاؤں گا۔پھر تو مجھے ضرور جانا ہوگا۔چنانچہ انہوں نے ایک رقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی خدمت میں لکھا کہ مولوی غلام رسول را جیکی کو ارشاد فرمایا جائے کہ وہ میرے ساتھ کپورتھلہ جائیں اور وہاں درس و تدریس اور تبلیغ کے لئے کچھ روز قیام کریں۔حضرت اقدس