خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 323 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 323

خطبات مسرور جلد دہم 323 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012ء حضرت شیخ زین العابدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حافظ صاحب جب قادیان آئے تو حقہ بہت پیا کرتے تھے اور چوری چوری میاں نظام الدین صاحب کے مکان پر جا کر پیا کرتے تھے۔یہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رشتہ دار تھے لیکن بڑے سخت مخالف تھے۔حضرت صاحب کو بھی پتہ لگ گیا۔فرمایا میاں حامد علی ! یہ پیسے لو اور بازار سے ایک حقہ خرید لاؤ اور تمبا کو بھی لے آؤ اور جب ضرورت ہو، گھر میں پی لیا کرو۔ان لوگوں کے پاس نہ جایا کرو۔( کیونکہ یہ لوگ تو اسلام کے بھی منکر تھے )۔چنانچہ وہ حقہ لائے اور پیتے رہے۔مہمان بھی وہی حقہ پیتے تھے۔چھ سات ماہ کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا میاں حامد علی ! یہ حقہ اگر چھوڑ دو تو کیا اچھی بات ہے۔حافظ صاحب نے کہا کہ بہت اچھا حضور ، چنانچہ انہوں نے حقہ چھوڑ دیا فوراً۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 72-73- روایات حضرت شیخ زین العابدین برا در حافظ حامد علی صاحب) پہلے بری صحبت سے بچانے کے لئے ایک عارضی ترکیب یہ کی کہ عارضی انتظام کر دیا کہ جاؤ ، اپنا حقہ لے آؤ اور گھر میں پی لیا کرو۔اور جب ایک وقت گزر گیا پھر فرمایا کہ کیونکہ یہ ایسی چیز ہے جو صحت کے لئے بھی مضر ہے اور بد عادات میں مبتلا کر دیتی ہے اس لئے اس کو چھوڑ دو تو بہتر ہے۔اس سے کوئی یہ مطلب نہ لے لے کہ کیونکہ ایک دفعہ انتظام کر دیا تھا اس لئے بات جائز ہو گئی۔سگریٹ نوشی اور یہ چیزیں جو ہیں عموماً ایسی بُری عادتیں ہیں جن کو چھوڑنا بہتر ہے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ یہ فرمایا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ تمباکو وغیرہ ہوتا تو یقیناً اس سے آپ منع فرماتے۔حضرت ملک غلام حسین صاحب مہاجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ایک سیٹھ صاحب تھے ، اُن کا ذکر کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ ایک دفعہ جب وہ تشریف لائے تو حضرت اقدس نے مجھے بلا کر فرمایا کہ میاں غلام حسین ! سیٹھ صاحب کی خدمت کے لئے پیرا اور میاں کر مداد کو تو میں نے لگایا ہوا ہے مگر وہ سیدھے سادے آدمی ہیں، اس لئے آپ بھی خیال رکھا کریں۔پیرا کے سپرد یہ خدمت تھی کہ وہ بازار سے اُن کے لئے اشیاء خرید لایا کرے اور چونکہ وہ تمباکو پیتے تھے کر مداد اُن کو حقہ تازہ کر دیا کرتا تھا۔مجھے حضور نے ان دونوں کی نگرانی کے لئے مقرر فرمایا اور فرمایا کہ آپ بھی ان کا بہت خیال رکھا کریں۔بڑے معزز آدمی ہیں اور دور سے بڑی تکلیف اُٹھا کر آتے ہیں۔سیٹھ صاحب مجھے فرمایا کرتے تھے کہ میاں غلام حسین ! ٹھنڈا پانی چاہئے۔میں دوڑ کر بڑی مسجد سے اُن کے لئے تازہ پانی نکال کر لے آتا۔اُن کا کھانا بھی اندر سے پک کر آیا کرتا تھا۔میں ہی اُنہیں کھلایا کرتا تھا۔وہ قریباً ایک ماہ سے لے کر ڈیڑھ ماہ تک رہا