خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 322 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 322

خطبات مسر در جلد دہم 322 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012ء ہے۔یہاں کے ماحول کا بعض دفعہ اثر ہو جاتا ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض احمدی لڑکے بھی اس قسم کے فیشن کر لیتے ہیں۔جناب والدہ بشیر احمد صاحب بھٹی ولد عبد الرحیم صاحب بھٹی فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ حضرت اقدس علیہ السلام نے گھر میں تھوڑے سے چاول پکوائے ( یعنی پلاؤ ) اور حضرت کے حکم سے حضرت ام المومنین نے اُن دنوں یہاں قادیان میں جتنے احمدی گھر تھے سب گھروں میں تھوڑے تھوڑے بھیجے۔وہ چاول برکت کے چاول کہلاتے ہیں اور حضور کا حکم تھا کہ گھر میں جتنے افراد ہیں اُن سب کو کھلائیں۔( یعنی کہ جس جس گھر میں بھیجے تھے اُن کو کہا کہ ہر گھر والا چاول کھائے ) چنانچہ کہتے ہیں۔بڑے قاضی صاحب نے اپنے بڑے لڑکے بشیر احمد کے والد عبد الرحیم صاحب کو جو ان دنوں جموں میں ملازم تھے لفافے میں چند دانے کاغذ کے ساتھ چپکا کر بھیج دیئے۔اب گھر کے افراد کے لئے حکم تھا کہ اُن کو یہ چاول کھلاؤ اور اس حکم کی اتنی حد تک تعمیل کی کہ کیونکہ میرا بیٹا ہے اور وہ وہاں موجود نہیں تھا تو اُس کو ایک لفافے میں کاغذ کے ساتھ چپکا کر بھیج دیئے اور خط میں لکھ دیا کہ اتنا کونہ جس میں چاول چپکائے ہوئے ہیں، کھا لینا۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 350 روایات جناب والدہ بشیر احمد صاحب بھٹی ) ی تھی اطاعت اور محبت۔حضرت میاں عبدالغفار صاحب جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضور آخری بار لاہور تشریف لے گئے تو میرے والد صاحب کو خط لکھ کر منگوالیا۔والد صاحب جب لاہور پہنچے تو خواجہ کمال الدین صاحب نے اُن کو کہا کہ میاں غلام رسول ! تم ہمارا یہاں کیا سنوار رہے ہو ، ( یعنی کیوں آئے ہو تم ) والد صاحب نے حضرت صاحب کا خط نکال کر دکھایا اور فرمایا کہ اس شخص سے پوچھو جس نے خط لکھ کر مجھے بلایا ہے۔پھر حضور سے ملاقات کی اور حضور کی حجامت بھی بنائی ، مہندی بھی لگائی نیز خواجہ صاحب کی بات کا بھی ذکر فرما دیا۔حضرت صاحب نے ایک پرچہ لکھ کر دیا جس پر وہ پرچہ والد صاحب نے نیچے جا کر دکھایا اور تمام لوگ خاموش ہو گئے پھر کسی نے ذکر نہیں کیا۔پھر حضور نے یہ بھی پیار کا اظہار کیا کہ میرے والد صاحب کو پانچ روپے بھی دیئے اور فرمایا کہ آپ کو تو میں نے بلایا ہے ، آپ ان کی باتوں کی پرواہ نہ کریں۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 41-42۔روایات حضرت میاں عبدالغفار صاحب جراح ) یعنی یہ محبت کا جذبہ صحابہ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تھا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اُس سے بڑھ کر سلوک فر ما یا کرتے تھے۔