خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 321
خطبات مسرور جلد دہم 321 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012 ء حالت تشویشناک ہے۔چنانچہ میں رہ گیا۔حضور کے سارے سفروں میں صرف یہ ایک دن تھا کہ میں معیت میں نہ جاسکا۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحه 446-447 روایات حضرت مفتی فضل الرحمان صاحب) بچے کا جو افسوس تھا وہ تو ہے لیکن ایک دن نہ جانے کا، سفر میں معیت نہ ہونے کا بھی بڑا واضح افسوس نظر آتا ہے۔حضرت حافظ عبدالعلی صاحب ولد مولوی نظام الدین صاحب فرماتے ہیں کہ زبانی حضرت میر محد اسمعیل ریٹائرڈ (جو اس وقت طالبعلم تھے) سول سرجن معلوم ہوا کہ آپ جب لاہور میڈیکل کالج میں پڑھنے تشریف لائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ آپ لاہور میں مکان میں اکیلے نہ رہیں بلکہ اپنے ساتھ کسی کو ضرور رکھیں۔اس ارشاد کے ماتحت حضرت میر صاحب اکیلے کبھی کسی شہر میں ( جہاں تک میں دیکھتا رہا) نہ رہے، اُس وقت بورڈنگ میڈیکل کالج کوئی نہ تھا۔میر صاحب کرایہ کا مکان لے کر رہتے تھے۔(رجسٹر روایات صحابه غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 217 روایات حضرت حافظ عبدالعلی صاحب) اور پھر صرف ایک دفعہ حکم نہیں سمجھا بلکہ کہتے ہیں زندگی میں ہمیشہ جب بھی میں نے دیکھا، جہاں بھی رہنا پڑا ، کسی نہ کسی کو ضر و ر ساتھ رکھا کرتے تھے۔حضرت ملک شادی خان صاحب ولد امیر بخش صاحب فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ میاں جمال دین صاحب مرحوم کے ساتھ قادیان میں آیا اور مسجد مبارک میں جب ہم آئے تو ظہر کا وقت تھا۔حضرت صاحب نماز کے لئے جو تشریف لائے تو میں نے حضرت صاحب سے مصافحہ کیا۔میرے کانوں میں مرکیاں پڑی ہوئی تھیں (چھوٹے چھوٹے چھلے تھے ) تو حضور نے فرمایا کہ یہ مرکیاں کیسی ہیں ، مسلمان تو نہیں ڈالتے۔میاں جمال دین صاحب نے کہا : حضور! دیہاتی لوگ ایسے ہوتے ہیں کیونکہ ایسے مسائل سے کچھ خبر نہیں ہوتی۔فرمایا ان کو کانوں سے اُتار دو۔تو میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے بھی کہا کہ جلدی اُتار دو کیونکہ حضرت صاحب نے حکم فرمایا ہے۔میں نے اُسی وقت اُتار دیں۔جب نماز عصر کے وقت نماز پڑھنے کے لئے آیا تو حضور نے فرمایا کہ اب مسلمان معلوم ہوتا ہے۔اُس کے بعد میں نے بیعت کرلی (اُس وقت بیعت نہیں کی تھی )۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 169 روایات حضرت ملک شادی خاں صاحب) آجکل بھی بعض لڑکے فیشن میں بعض اوٹ پٹانگ چیزیں ڈال لیتے ہیں۔بعضوں نے گلے میں سونے کی چینیں ڈالی ہوتی ہیں۔یہ ساری چیزیں منع ہیں۔سونا پہنا تو ویسے ہی مردوں کے لئے منع