خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 320
خطبات مسرور جلد دہم 320 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012ء خوش دلی سے وہ آپ کی کامل اطاعت کیا کرتے تھے۔یہ سب باتیں جو ہیں ہم سب کے لئے نمونہ بھی ہیں۔حقیقت میں یہی سچی فرمانبرداری اور تعلق ہے جو پھر تقویٰ میں بھی ترقی کا باعث بنتا ہے اور جماعت کی اکائی اور ترقی کا بھی باعث بنتا ہے۔حضرت فضل الہی صاحب ریٹائر ڈ پوسٹ مین فرماتے ہیں۔حکومت کی طرف سے میری ترقی کا حکم صادر ہوا تو میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا کہ حضور میری ترقی ہوگئی ہے اور میں یہاں سے (اب) جارہا ہوں، اب ٹرانسفر بھی ہو جائے گی۔حضور نے فرمایا کہ دیکھو فضل الہی ! یہاں لوگ ہزاروں روپیہ خرچ کر کے آرہے ہیں ( یعنی قادیان میں ) اور تم ترقی کی خاطر یہاں سے جار ہے ہو۔یہیں رہو، ہم تمہاری کمی پوری کر دیں گے۔چنانچہ کہتے ہیں کہ حضور کے حسب ارشاد میں نے جانے سے انکار کر دیا۔اور پھر وہیں رہا اور مالی منفعت جو تھی اُس کو قربان کر دیا۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 315 روایات حضرت فضل الہی صاحب) حضرت مفتی فضل الرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام گورداسپور مقدمے کی تاریخوں پر تشریف لے جاتے تھے تو مجھ کو ضر و ر ار دل میں رکھا کرتے تھے ، اُس زمانے میں لگے ہوتے تھے۔جب آپ صبح کو روانگی کے لئے تشریف لاتے تو فرماتے ، میاں فضل الرحمن کہاں ہیں؟ اگر میں حاضر ہوتا تو بولتا ور نہ آدمی بھیج کر مجھے گھر سے طلب فرماتے کہ جلدی آؤ۔حضور کا یکہ ہمیشہ میں ہی چلاتا۔یکہ بان کو حکم نہ تھا کہ چلائے۔میں یکہ بان کی جگہ بیٹھ جاتا اور میاں شادی خان صاحب مرحوم میرے آگے ساتھ بیٹھ جاتے اور یکہ کے اندرا کیلے حضور ہی تشریف رکھتے۔مقدمے کے دوران جب یہ سفر ہوا کرتا تھا اس دوران میں میرا دوسرا بچہ بیمار ہو گیا اور اُس کو ٹائیفائیڈ ہو گیا۔حضور اکثر اُس کو دیکھنے کے لئے تشریف لاتے تھے۔تاریخ مقدمہ سے ایک دن قبل میری بیوی نے کہا کہ حضور کو دعا کے لئے لکھو۔میں نے کہا جبکہ آپ ہر روز دیکھنے کو تشریف لاتے ہیں تو لکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر اُس نے اصرار کیا تو میں نے عریضہ لکھ دیا، خط لکھ کے ڈال دیا۔حضرت نے اس پر تحریر فرمایا کہ میں تو دعا کروں گا پر اگر تقدیر مبرم ہے تو ٹل نہیں سکتی۔یہ الفاظ پڑھ کر میرے آنسو نکل آئے۔بیوی نے پوچھا: کیوں؟ میں نے کہا اب یہ بچہ ہمارے پاس نہیں رہ سکتا۔اگر اس نے اچھا ہونا ہوتا تو آپ یہ نہ لکھتے۔خیر دوسرے دن صبح کو روانگی تھی ، سب لوگ چوک میں کھڑے تھے منتظر تھے کہ حضور برآمد ہوئے اور کسی سے کوئی بات چیت نہیں کی اور سیدھے میرے گھر تشریف لے آئے۔بچے کو دیکھا، دم کیا اور مجھے فرمایا کہ آج تم یہیں رہو۔میں کل آ جاؤں گا۔بچے کی