خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 315
خطبات مسرور جلد و هم 315 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2012ء تنگیوں سے گزر رہے تھے۔بعض ماحول کی وجہ سے پریشان تھے۔بہر حال یہاں آپ آئے ہیں اور آزاد ہیں۔اس لئے ایک تو پاکستانی احمدی بھائیوں کے لئے باہر رہنے والے احمدیوں کو بہت دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ جلد اُن کے بھی دن پھیرے اور انہیں مذہبی آزادی حاصل ہو۔دوسرے پاکستان سے باہر رہنے والے احمدیوں پر جو بہت بڑی ذمہ داری پڑتی ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ دینی مہمات کے لئے آگے آئیں۔۔ہالینڈ ایک چھوٹا سا ملک ہے یہاں کے ایک سیاستدان نے اسلام کو بدنام کرنے کی بڑی کوشش کی۔یہاں اگر احمدی ایک مہم کی صورت میں مستقل مزاجی سے تبلیغ کے کام کو وسعت دیتے تو بہت حد تک اسلام کے بارے میں منفی رویے کو زائل کر سکتے تھے، بلکہ اسلام کی خوبیاں اجاگر کرنے کا موقع بھی مل سکتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا ایک مقصد بلکہ بہت بڑا مقصد اس ہدایت اور شریعت کی اشاعت کا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے اور جو قرآنِ کریم کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔اس پیغام کو دنیا تک پہنچانے کا کام بھی ہمارا ہے، اس بارے میں بھی بھر پور کوشش ہونی چاہئے۔یہاں اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف قوموں کے لوگ آباد ہیں اور ان میں احمدی بھی ہیں ، ان قوموں میں تبلیغی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جہاں بھی دنیا میں جماعتوں نے اس اہمیت کو سمجھا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا سلطان نصیر بنتے ہوئے خلافت کا دست و بازو بنتے ہوئے تبلیغ کے کام کو وسعت دی ہے، وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جہاں جماعت کا تعارف وسیع ہو رہا ہے وہاں سعید فطرت لوگوں کو بھی جماعت کی طرف توجہ پیدا ہورہی ہے اور بڑی کثرت سے ہو رہی ہے۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہاں کی اکثریت کو دین سے دلچسپی نہیں ہے تو یہ تو یورپ میں اکثر ملکوں میں یہی حال ہے بلکہ مغربی ممالک میں یہی حال ہے، بلکہ کہنا چاہئے تمام عیسائی دنیا میں یہی حال ہے اور یہی نہیں بلکہ مسلمانوں کو بھی ، نام نہاد مسلمان ہیں، مذہب سے دلچپسی کوئی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ پر وہ یقین نہیں ہے۔اگر اللہ تعالیٰ پر یقین ہوتا تو وظلموں کے بازار گرم کئے ہوئے ہیں، علماء نے بھی اور اُن کے پیچھے چلنے والوں نے بھی ، وہ کبھی نہ ہوتے۔تو بہر حال یہ کہتے ہیں جی ان کو مذہب سے دلچسپی نہیں ہے۔خدا تعالیٰ پر یقین نہیں ہے، تو یہ بھی ہمارا کام ہے کہ خدا تعالیٰ پر یقین پیدا کروائیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کر و۔اگر ہم حقیقت میں اپنے ہر عمل سے اس کامل اور مکمل کتاب کی پیروی کرنے والے بن جائیں گے متقی کی اُس تعریف کے نیچے آجائیں گے جو