خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 26

خطبات مسرور جلد دہم 26 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2012ء کے جو درجے جو ہیں وہ حاصل کرتا ہے ) فرمایا کہ ”ہر ایک آدمی نبی، رسول ، صدیق ، شہید نہیں ہوسکتا۔“ ( یہ بالکل ٹھیک ہے لیکن فرماتے ہیں کہ ) ' غرض اس میں شک نہیں کہ تفاضل درجات امرحق ہے۔“ ( یہ بالکل ٹھیک ہے کہ ہر ایک ہر مقام پر نہیں پہنچ سکتا اور جو درجوں میں فضیلت ہے وہ قائم ہے۔فرمایا کہ ) اس کے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان امور پر مواظبت کرنے سے ہر ایک سالک اپنی اپنی استعداد کے موافق درجات اور مراتب کو پالے گا۔( مواظبت کا مطلب ہے کوشش کرتے چلے جانا اور مستقل مزاجی سے کام پر لگے رہنا، ان کاموں میں جو اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں اگر مستقل مزاجی سے لگا ر ہے گا، کوشش کرتا رہے گا تو ہر انسان جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کو پانے کی جو بھی اپنی کوشش کر رہا ہے، اپنی استعداد کے مطابق جو بھی اُس کی استعداد ہے، وہ اپنے درجے اور مرتبے کو پالے گا ) ” یہی مطلب ہے اس آیت کا وَ يُؤْتِ كُلَّ ذِى فَضْلٍ فضله (هود: 4) ( کہ ہر ایک فضیلت والے شخص کو اپنا فضل عطا فرمائے گا۔اور جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ اس فضیلت کی وجہ سے، دینی برکات روحانی برکات ہر ایک کو اس زمانے میں بھی ملتی ہیں، اور اگلے جہان ا میں بھی ملتی ہیں )۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : " لیکن اگر زیادت لے کر آیا ہے تو خدا تعالیٰ اس مجاہدہ میں اس کو زیادت دے دے گا یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کس کو کتنا دینا ہے۔وہ فضل بھی ساتھ چل رہا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بے انتہا بڑھا کر دینا چاہتا ہے تو اس تو بہ اور استغفار کی وجہ سے پھر اُس کو اللہ تعالیٰ بڑھا کر بھی دے دے گا لیکن پہلی شرط یہی ہے کہ مجاہدہ ہو اور استغفار ہو اور تو بہ ہو تو پھر اللہ تعالیٰ بڑھائے گا) فرمایا کہ اور اپنے فضل کو پالے گا جو طبعی طور پر اس کا حق ہے۔ذی الفضل کی اضافت ملکی ہے۔“ (اللہ تعالیٰ کیونکہ مالک ہے، طاقتور ہے ، اُس کی اپنی وجہ سے یہ اضافہ ہے۔صرف محنت کا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ مالک ہونے کی وجہ سے اپنے فضل کو بڑھا کر جتنا مرضی چاہے دے سکتا ہے اور یہ بہر حال ہے کہ اللہ تعالیٰ استغفار کرنے والوں اور اپنی طرف بڑھنے والوں اور کوشش کرنے والوں کو اپنے فضل سے نوازتا ہے ) فرمایا کہ ذی الفضل کی اضافت ملکی ہے۔مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ محروم نہ رکھے گا۔“ پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” بعض لوگ کہتے ہیں کہ میاں ہم نے کوئی ولی بننا ہے؟ جو ایسا کہتے ہیں وہ دنی الطبع کافر ہیں۔“ (یعنی گناہگار ہیں، کافر ہیں) ”انسان کو مناسب ہے کہ قانون قدرت کو ہاتھ میں لے کر کام کرے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 349-350 ایڈ یشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) اللہ تعالیٰ نے ایک قانون بنایا ہوا ہے، استغفار تو بہ کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے، اُس کو استعمال کرنا چاہئے اور کوشش کرنی چاہیئے۔اپنی پوری کوشش کرو۔باقی اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں۔وہ ہر ایک کو اُس کے