خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 313
خطبات مسرور جلد دہم 313 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2012ء موسوم کیا ہے۔چنانچہ لِباسُ التَّقْوَى (الاعراف: 27) قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہدوں اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے۔یعنی ان کے دقیق دردقیق پہلوؤں پر تا بمقدور کار بند ہو جائے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 210) یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تمام ذمہ داریاں جو باریک سے باریک ہیں، اُن کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔کاروباری لوگ ہیں، زندگی کے روز مرہ کے معاملات ہیں وہاں جو وعدے وعید ہوتے ہیں ، جو بھی عہد کئے جاتے ہیں، جو بھی معاہدے کئے جاتے ہیں، اُن کو پورا کرنا ہے۔اپنا کام ہے تو اُس کو انصاف کے ساتھ ادا کرنا ہے۔طالبعلم ہیں تو علاوہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حق کے، وہ اپنی پڑھائی کا حق ادا کریں۔ہر قسم کے حقوق کی ادائیگی جو ہے وہی تقویٰ پر چلنے والی کہلا سکتی ہے۔66 پھر آپ ایک اور جگہ فرماتے ہیں:۔د متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی موٹی باتوں جیسے زنا، چوری ، تلف حقوق، ریا، عجب، حقارت، بخل کے ترک میں پکا ہو تو اخلاق رذیلہ سے پر ہیز کر کے۔“ یہ بڑی بڑی باتیں، چوری، زنا وغیرہ جو ہیں ان سے تو انسان بچتا ہے۔پھر یہ جو بناوٹ ہے، کنجوسی جو ہے، تکبر جو ہے،دکھا وہ جو ہے یہ بھی بڑی باتیں ہیں۔یہ سب چیزیں جو ہیں انسان نے ان کو چھوڑنا ہے۔اور پھر جو گھٹیا قسم کے اخلاق ہیں اُن سے بھی بچنا ہے اور پھر صرف بچنا نہیں ہے بلکہ ان کے بالمقابل اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔جو اچھے اخلاق ہیں اُن میں ترقی کرو۔اچھے اخلاق کیا ہیں؟ کہ لوگوں سے مروت ، خوشی خلقی ، ہمدردی سے پیش آوے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ سچی وفا اور صدق دکھلاوے۔خدمات کے مقام محمود تلاش کرئے“۔(یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے لئے ، دین کی خدمت کے لئے بھی وہ کوشش کرے جو انتہائی اونچے مقام ہوتے ہیں، یا جو تعریف کے قابل ہوں ) ان باتوں سے انسان متقی کہلاتا ہے اور جولوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں ( یعنی اُن میں وہ سب موجود ہوتی ہیں ) ” وہی اصل متقی ہوتے ہیں۔( یعنی اگر ایک ایک خُلق فرداً فرداً کسی میں ہوں تو اسے متقی نہ کہیں گے“۔( بہت سارے اخلاق ہیں، بہت ساری نیکیاں ہیں، بہت سارے اعمالِ صالحہ ہیں، اگر کسی میں ایک ایک دو دو، تین تین ہیں تو وہ کامل متقی نہیں کہلا سکتا۔فرمایا کہ متقی وہی ہوگا جس میں یہ سب اخلاق موجود ہوں۔گھٹیا قسم کی جو