خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 312 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 312

خطبات مسرور جلد دہم 312 میں اس سے بھی زیادہ بڑھا سکتا ہوں اور بڑھا دیتا ہوں۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2012 ء پس تقویٰ پر چلنے والا جو ہے وہ دیکھے کیسے کیسے پھل کھا رہا ہے اور پھر ایک عمل کے کئی گنا کر کے کھا رہا ہے، بے حد و حساب کھا رہا ہے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ قرآنِ کریم کے احکامات کی پیروی کی کوشش کریں تبھی حقیقی تقویٰ پر چلنے والے ہم کہلا سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تقویٰ کی وضاحت بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقویٰ کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے۔تقویٰ کی باریک راہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط و خال ہیں۔اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہد کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قومی اور اعضاء ہیں جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں اور باطنی طور پر دل اور دوسری قو تیں اور اخلاق ہیں۔ان کو جہاں تک طاقت ہو ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا اور نا جائز مواضع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 209-210) یہ ہے اللہ تعالیٰ کے حق کی ادائیگی۔جو امانتیں اللہ تعالیٰ نے دی ہیں ، عہد جو اللہ تعالیٰ سے کئے ہیں، اُن کو ہر وقت پورا کرنے کی کوشش کرنا۔تمام اعضاء سے اُن کی ادائیگی کرنا۔ہاتھ ہے تو وہ کام کرے، جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، تمام برے کاموں سے بچنا۔پاؤں ہیں تو ان نیکیوں کی طرف جانے والے ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے کرنے کا حکم دیا ہے۔حدیث میں آیا ہے ناں ہر قدم جو مسجد کی طرف اُٹھتا ہے اُس کا ثواب دیا جاتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاة باب المشى الى الصلاة تمحى به الخطايا۔۔۔۔۔۔حديث: 1521) پس ہر قدم جو دنیا کے دھندوں کو چھوڑ کے مسجد کی طرف نماز پڑھنے کے لئے جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والا ہے۔اسی طرح انسان کے اندر چھپی ہوئی جتنی صلاحیتیں ہیں اُن کا بھی حق ادا کرنا اللہ تعالیٰ کی خاطر اُن کا استعمال کرنا اور پھر شیطان جو حملے کرتا ہے اُن سے بھی بچنے کی کوشش کرنا۔فرمایا کہ پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا، اُن سے ہوشیار رہنا ہے کہ شیطان کس طرح کے حملے کر سکتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ اس کے مقابل پر حقوق عباد کا بھی لحاظ رکھنا۔یہ تو اللہ تعالیٰ کے حقوق ہو گئے۔پھر بندوں کے جو حقوق ہیں اُن کا بھی لحاظ رکھنا ضروری ہے۔اور یہ وہ طریق ہے کہ انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے۔اور خدا تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے