خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 311 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 311

خطبات مسر در جلد دہم 311 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2012ء قرار دیا گیا ہے۔بہت سے لوگ ہم دیکھتے ہیں یہاں آکر یہاں کی رنگینیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔یہاں کے لوگوں کی اکثریت کے عمل جو حقیقت میں شیطانی عمل ہیں وہ یہاں نئے آنے والوں کے لئے دلچسپی کا باعث بن جاتے ہیں۔نئے آنے والے لوگ یا جن کو کسی قسم کا کمپلیکس (Complex) ہوتا ہے، احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں سمجھتے ہیں کہ شاید ہماری ترقی کا راز اسی میں ہے کہ ان لوگوں کے پیچھے چلا جائے اور دین کو پیچھے کر دیا جائے اور دنیا کو مقدم رکھا جائے۔حالانکہ اس میں ترقی نہیں ہے بلکہ اس میں تبا ہی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاتَّقُوا اللهَ يَأْولى الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ(المائدة: 101) که پس اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اے عقل والو! تا کہ تم فلاح پاؤ۔اب یہاں کا میاب اللہ تعالیٰ نے انہیں قرار دیا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں بلکہ عقل والے بھی یہی لوگ ہیں جنہوں نے عارضی خواہشات کو سب کچھ نہیں سمجھا ، اس دنیا کی خواہشات کو کچھ نہیں سمجھا اور ان کو سمجھ کر اپنی ہمیشہ کی زندگی کو برباد نہیں کر لیا۔ایسے لوگ عقل والے ہیں جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہیں، جنہوں نے اس دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھ لیا انہوں نے تو اپنی ہمیشہ کی زندگی کو برباد کر لیا اور جو ہمیشہ کی زندگی کو برباد کرنے والا ہو، اُسے عقل مند تو نہیں کہا جا سکتا۔عقلمند وہی کہلاتا ہے جو چھوٹی چیز کو بڑی چیز کے لئے قربان کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے دنیا کو قربان کرنا یہی عقلمندی ہے۔پس انسان کو ایک صحیح مؤمن کو حقیقی مؤمن کو اسے ہی اپنی زندگی کا مقصد بنانا چاہئے اور یہ مقصد کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَهُذَا كتب أَنزَلْنَهُ مُبْرَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ ترحمون (الانعام: 156 ) اور یہ کتاب یعنی قرآنِ کریم ایسی کتاب ہے جسے ہم نے اتارا ہے۔یہ برکت والی ہے۔پس اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔پس اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننا ہے تو قرآن کریم کے احکامات کی پیروی کرنی ہو گی جس کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں تلقین فرمائی ہے۔اور یہ پیروی ہی تقویٰ کے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم پر اللہ تعالیٰ رحم فرماتا رہے گا۔یہ رحم ختم نہیں ہو جا تا بلکہ فرما تا چلا جائے گا۔کیونکہ یہاں مُبارك “ جو لکھا ہوا ہے ، بَرَكَ کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہرا چھی چیز جو نہ صرف یہ کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے بلکہ اُس میں ہر آن اور ہر لمحہ اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا رحم ہے کہ اگر اُس کی رضا حاصل کرنے کے لئے انسان ایک نیکی کرتا ہے، اس کی رحمانیت ہی ہے نہ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اُسے دس گنا کر دیتا ہوں، بلکہ سات سو گنا تک بڑھا دیتا ہوں اور یہیں پر بس نہیں ہے بلکہ فرمایا کہ