خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 310 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 310

خطبات مسرور جلد دہم 310 راستبازی ان میں پیدا ہو، اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں۔“ خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2012ء شہادۃ القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 394) پس پہلی بات تو آپ نے یہی بیان فرمائی ہے کہ آخرت کی طرف مکمل جھک جاؤ۔وہی قرآن کریم کا حکم ہے کہ یہ دیکھو کہ تم نے کل کے لئے کیا بھیجا ہے؟ اس دنیا کی فکر کی بجائے آخرت کی زیادہ فکر رکھو۔اور یہ حالت اُسی وقت پیدا ہوتی ہے جب تقویٰ ہو۔تقویٰ ہوگا تو یہی چیز خدا خوفی کی طرف بھی مائل رکھے گی۔جہاں حقوق اللہ ادا ہوں گے، وہاں حقوق العباد بھی ادا ہوں گے یا اُن کے ادا کرنے کی طرف کوشش ہوگی اور اس کے لئے آپ نے ضروری قرار دیا کہ حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے آپس کی محبت اور بھائی چارہ دلوں میں پیدا کرو۔پھر صرف آپس کی محبت اور بھائی چارہ ہی نہیں بلکہ معاشرے پر بھی اس کا نیک اثر قائم ہونا چاہئے۔تمہاری عاجزی اور انکساری اور نیکی اور دوسروں کا خیال رکھنا ایسا ہو کہ دنیا کہے کہ یہ احمدی ہیں جو دنیا کے دوسرے لوگوں سے مختلف نظر آتے ہیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں اگر کسی نے نمونہ دیکھنا ہو تو ان احمدیوں میں دیکھو۔پھر آپ نے فرمایا کہ دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کرو۔دینی مہمات میں دین کی اشاعت کے لئے مالی قربانی بھی ہے۔مساجد کی تعمیر کی طرف توجہ اور کوشش بھی ہے۔تبلیغ کی منصوبہ بندی بھی ہے اور اس منصوبہ بندی کے ساتھ ہر احمدی کا اپنا وقت اس مقصد کے لئے دینا بھی ہے۔پس جلسے میں آ کر جب ہم مختلف موضوعات پر تقریریں سنتے ہیں، تو جو تقریریں یہاں کی جاتی ہیں ، ان کو سن کر ہمیں جن مقاصد کے حصول کی طرف یہاں بیٹھے ہوئے توجہ پیدا ہوتی ہے، وہ مستقل ہماری زندگی کا حصہ ہونے چاہئیں۔پس ہر احمدی جہاں جلسے میں شامل ہو کر اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرے اور خدا تعالیٰ کے دوسرے حق ادا کرے، وہاں بندوں کے بھی حق ادا کرے۔معاشرے کے بھی حق ادا کرنے کی طرف توجہ کرے۔آپس میں اگر کوئی رنجشیں ہیں تو جلسے کی برکات سے انہیں بھی دور کرنے کی کوشش کریں۔گویا اس جلسے میں شامل ہونے کے مقصد کو تبھی حاصل کیا جاسکتا ہے جب ہر قسم کی برائیوں کو دور کرنے کا عہد کریں اور اس کے لئے کوشش کریں۔اس معاشرے میں رہتے ہوئے جہاں ایک بہت بڑی تعداد خدا تعالیٰ کے وجود سے ہی انکاری ہے اور دنیا کو ہی سب کچھ سمجھا جاتا ہے اور اس کے حاصل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔اس معاشرے میں رہتے ہوئے دین پر قائم رہنا، دین کی خاطر قربانی کے لئے تیار رہنا، تقویٰ پر چلنے کی کوشش کرنا، بہت بڑا کام ہے۔اور اس لئے یہ مومن کے لئے بہت اہم