خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page iii of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page iii

پیش لفظ احمد اللہ، خطبات مسرور کی دسویں جلد پیش کی جارہی ہے جو امام جماعت احمد یہ عالمگیر حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بیان فرمودہ 2012ء کے خطبات جمعہ پر مشتمل ہے۔یہ تمام خطبات الفضل انٹرنیشنل لندن میں شائع شدہ ہیں۔ہماری خوش نصیبی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وقت کے امام کو پہچانے کی توفیق دی اور اس کا سراسر فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں خلافت کے نظام میں شامل کیا۔ہمیں ایک خلیفہ عطا کیا جو ہمارے لئے درد رکھتا ہے، ہمارے لئے اپنے دل میں پیار رکھتا ہے، اس خوش قسمتی پر جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے۔اس شکر کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ ہم خلیفہ وقت کی آواز کو سنیں، اس کی ہدایات کو سنیں اور ان پر عمل کریں کیونکہ اس کی آواز کوسنا باعث ثواب اور اس کی باتوں پر عمل کرنا دین و دنیا کی بھلائی اور ہمارے علم و عمل میں برکت کا موجب ہے۔اس کی آواز وقت کی آواز ہوتی ہے۔یہ لوگ خدا کے بلانے پر بولتے ہیں۔خدائی تقدیروں کے اشاروں کو دیکھتے ہوئے وہ رہنمائی کرتے ہیں اور الہی تائیدات و نصرت ان کے شامل حال ہوتی ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی فرماتے ہیں :۔خدا تعالیٰ جس شخص کو خلافت پر کھڑا کرتا ہے وہ اس کو زمانہ کے مطابق علوم بھی عطا کرتا ہے۔اسے اپنی صفات بخشتا ہے۔“ ( الفرقان مئی جون 1967 ء صفحہ 37) حضرت مصلح موعود کا ایک ارشاد ان خطبات کی خیر و برکت اور اہمیت کو اور واضح کر دیتا ہے آپ نے فرمایا: ” خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں ، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم یا وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک خطبات رائیگاں، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔“ (خطبہ جمعہ 24 جنوری 1936ء مندرجہ الفضل 31 جنوری 1936ء) 2012ء کا سال جماعت احمد یہ عالمگیر کے لئے ایک اور تاریخ ساز سال ثابت ہوا۔احمدیت کی تائید میں خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کے نشانات موسلا دھار بارش کی مانند برستے رہے۔یہ خطبات ہمارے لئے ایک روحانی مائدہ بھی ہے ان میں انواع واقسام کے مضامین ہماری مادی