خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 292
خطبات مسرور جلد دہم 292 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012ء حضرت شیخ اصغر علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ عام طور پر حضرت اقدس علیہ السلام سے جب باہر سے آئے ہوئے دوست واپسی کی اجازت طلب کرتے تو بار بار آپ اُن کو جلدی جلدی آتے رہنے کی تاکید فرماتے اور بعض وقت فرمایا کرتے تھے کہ ابھی اور ٹھہرو۔ایسے اصحاب کو جن کے متعلق حضور انور کو خیال ہوتا کہ وہ ابھی اور ٹھہرنے کی گنجائش رکھتے ہیں۔( ہر ایک کو نہیں کہتے تھے، جن کے بارہ میں خیال تھا کہ یہ ٹھہر سکتے ہیں اُن کو فرماتے تھے کہ ابھی اور ٹھہرو۔گویا دوستوں کو حضور انور سے جدا ہونا بہت شاق گزرتا تھا۔ہر ایک دوست کو رخصت ہونے سے پہلے مصافحہ کرنے کی تاکید ہوتی تھی اور سب دوست مصافحہ کر کے اور اجازت حاصل کر کے واپس ہوا کرتے تھے۔خواہ کتنی بھی دیر ہو جائے۔مصافحہ کر کے اجازت حاصل کئے بغیر جانا جہاں تک مجھ کو علم ہے کبھی کسی کا نہیں ہوتا تھا۔بعض دوستوں کے ساتھ ایسا واقعہ بھی ہوا کہ مصافحہ کی باری بہت دیر سے آئی اور جب روانہ ہوئے تو انہیں امید نہ تھی کہ وہ اسٹیشن پر گاڑی کے وقت پہنچ سکیں گے لیکن الہی تصرف سے حضور انور کی دعاؤں کی برکت سے کئی دفعہ یہ واقعہ ہوا کہ گاڑی دیر سے بٹالہ پہنچی اور گاڑی پر چڑھ گئے۔پھر اپنا واقعہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ خود میرے ساتھ یہ واقعہ ہوا کہ ہم دیر سے چلے اور اس روز یکہ بھی نہ ملا۔ہم چند بھائی تھے سب پیدل روانہ ہوئے۔شاید ان دنوں چھ بجے کے قریب گاڑی بٹالہ آیا کرتی تھی اس پر سوار ہونے کا خیال تھا مگر بہت کم وقت معلوم ہوتا تھا۔دعائیں بھی کرتے رہے اور خوب تیز رفتار چلے حتی کہ کچھ راستہ دوڑتے بھی کاٹا۔اللہ تعالیٰ نے خوب ہمت دی اور جب ہم تحصیل کے قریب والے حصہ میں پہنچے اور پتہ کیا تو پتہ گا کہ گاڑی ابھی نہیں آئی اور پھر تھوڑی دیر بعد جب آئی تو ہم آرام سے سوار ہوئے۔یہ محض حضرت اقدس کی توجہ کی برکت تھی۔(ماخوز از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 4 صفحہ 172،171 روایت شیخ اصغر علی صاحب) حضرت ماسٹر نذیر حسین صاحب ولد حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی فرماتے ہیں: خاکسار کی عادت تھی کہ جب کبھی بھی خاکسار کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملتا یا حضور کا لیکچر سنتا تو خاکسار کا پی پینسل اپنے پاس رکھتا اور جب دیکھتا کہ حضور نے کوئی بات فرمائی ہے جو خاکسار کے نزدیک قابل عمل اور زندگی کے لئے مفید اور ضروری ہے تو خاکسار فوراً اُس کو اُس میں درج کر لیتا۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 71 روایت حضرت ماسٹر نذیرحسین صاحب) حضرت اللہ دتہ صاحب ہیڈ ماسٹر ولد میاں عبدالستار صاحب فرماتے ہیں کہ: غالباً 1901ء یا 1902ء میں ایک نواب صاحب مع اپنے خادمان کے علاج کے لئے حضرت خلیفہ اسی الاول کی خدمت