خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 291
خطبات مسرور جلد دہم 291 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012 ء دیکھ آؤں اور بعدہ وہاں سے واپس آکر اپنی ملازمت پر چلا جاؤں۔میں قادیان کو جان کر یہاں آیا لیکن جو نہی یہاں آکر میں نے حضور کے چہرہ مبارک کا دیدار کیا تو میرے دل میں یکلخت یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر مجھ کو ساری ریاست کشمیر بھی مل جائے تو بھی میں آپ کو چھوڑ کر قادیان سے باہر ہرگز نہ جاؤں۔یہ محض آپ کی کشش تھی جو مجھے واپس نہ جانے پر مجبور کر رہی تھی۔میرے لئے آپ کا چہرہ مبارک دیکھ کر قادیان سے باہر جانا بہت دشوار ہو گیا۔یہاں تک کہ مجھے آپ کو دیکھتے ہی سب کچھ بھول گیا۔میرے دل میں بس یہی ایک خیال پیدا ہو گیا کہ اگر باہر کہیں تیری تنخواہ ہزار روپیہ بھی ہوگئی تو کیا ہوگا ؟ لیکن تیرے باہر چلے جانے پر پھر تجھ کو یہ نورانی اور مبارک چہرہ ہرگز نظر نہ آئے گا۔میں نے اس خیال پر اپنے وطن کو جانا ترک کر دیا اور یہی خیال کیا کہ اگر آج یا کل تیری موت آجائے تو حضور ضرور ہی تیرا جنازہ پڑھائیں گے جن سے تیرا بیڑا پار ہو جائے گا۔اور اللہ بھی راضی ہو جائے گا۔اور قادیان میں ہی رہنے کا ارادہ کر لیا۔میرا یہاں پر ہر روز کا یہی معمول ہو گیا کہ ہر روز ایک لفافہ دعا کے لئے حضور کی خدمت میں آپ کے در پر جا کر کسی کے ہاتھ بھجوا دیا کرتا مگر دل میں یہی خطرہ رہتا کہ کہیں حضور میرے اس عمل سے ناراض نہ ہو جائیں اور اپنے دل میں یہ محسوس نہ کریں کہ ہر وقت ہی تنگ کرتا رہتا ہے۔لیکن میرا یہ خیال غلط نکلا۔وہ اس لئے کہ ایک روز حضور نے مجھے تحریر جواب میں فرمایا کہ آپ نے بہت ہی اچھا رویہ اختیار کر لیا ہے کہ مجھے یاد کراتے رہتے ہو جس پر میں بھی آپ کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہوں۔انشاء اللہ پھر بھی کرتا رہوں گا۔“ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 4 صفحہ 95-96 روایت مددخان صاحب) حضرت محمد اسماعیل صاحب ولد مولوی جمال الدین صاحب بیان فرماتے ہیں کہ میں قریباً بیس سال کا تھا کہ گورداسپور میں کرم دین جہلمی۔۔۔۔۔کے مقدمے کا حکم سنایا جانا تھا۔میں ایک دن پہلے اپنے گاؤں سے وہاں پہنچ گیا۔وہاں پر ایک کوٹھی میں حضور علیہ السلام بھی اترے ہوئے تھے۔گرمی کا موسم تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ادھر کے ایک کمرے میں بیٹھے تھے اور وہاں پر میرے والد صاحب میاں جمال الدین صاحب، میاں امام الدین صاحب سیکھوانی اور چوہدری عبدالعزیز صاحب بھی موجود تھے۔میں نے جا کر حضور کو پنکھا جھلنا شروع کر دیا۔حضور نے میری طرف دیکھا اور میرے والد میاں جمال الدین صاحب کی طرف اشارہ کر کے مسکرا کر فرمایا کہ میاں اسماعیل نے بھی آکر ثواب میں سے حصہ لے لیا۔حضور کا معمولی اور ادنی خدمت سے خوش ہو جانا اب بھی مجھے یاد آتا ہے تو طبیعت میں سرور پیدا ہوتا ہے۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 4 صفحہ 150 روایت محمد اسماعیل صاحب)