خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 290
خطبات مسر در جلد دہم 290 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012 ء وقت حقہ پیا کرتا تھا۔اسی جگہ سنتے ہی قسم کھالی کہ حقہ نہیں پیوں گا تو اس طرح حقہ چھوٹ گیا۔پہلے میں زور لگا چکا تھا اور نہیں چھوٹا تھا۔( تو یہ وہ تعلق اور محبت تھی جس نے مجبور کیا کہ اس برائی سے جان چھٹ گئی )۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 1 صفحہ 18 - 19 روایت مولوی سکندر علی صاحب) حضرت شکر الہی صاحب احمدی بیان کرتے ہیں کہ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ابھی بچہ تھا، عمر تقریباً بارہ یا تیرہ سال کی ہوگی۔دین سے بالکل بے بہرہ تھا۔غالباً پرائمری کی کسی جماعت میں گورداسپور ہائی سکول میں تعلیم پایا کرتا تھا۔اس وقت مولوی عبدالکریم مخالف پارٹی کا مقدمہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے اصحاب کے ساتھ ہائی سکول کے شمال کی جانب بالکل متصل تالاب تحصیل والے کے رونق افروز ہوا کرتے تھے اور خاکسار مدرسہ چھوڑ کر آپ کی رہائش کے پاس کھڑار رہتا تھا اور آپ کے چہرہ مبارک کو دیکھتا رہتا تھا۔ایک آپ کے عاشق صادق کا نام بچہ ہونے کے باعث میں نہیں جانتا، لیکن یہ کہتے ہیں اس بات پہ مجھے حیرت تھی کہ ایسے ایک عاشق صادق تھے آپ کے کہ اُن کے دائیں ہاتھ میں بڑا پنکھا پکڑا ہوا ہوتا تھا اور بڑے زور سے ہلاتے رہتے تھے۔( دیر تک کھڑا رہتا، اُن کو دیکھتارہتا اور پنکھا اسی ہاتھ میں رہتا اور وہ چلاتے رہتے۔حیران ہوتا کہ ہاتھ تھکتے نہیں ہیں)۔ہلاتے بھی آہستہ نہ تھے بلکہ بڑے زور سے جیسے بجلی کے کرنٹ زور سے ہلاتی ہے۔کیونکہ موسم گرمیوں کا تھا۔دوبارہ سہ بارآ تا اور اُسی صاحب کو دیکھتارہتا کہ کیا جادو ہے۔پنکھا بڑا ہے اور سارا دن ایک ہی ہاتھ سے ہلا رہے ہیں۔مگر اب معلوم ہوا ہے کہ وہ سچے عاشق (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 3 صفحہ 113 روایت شکر الہی صاحب) تھے۔حضرت مددخان صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے اپنے وطن میں رمضان المبارک کے مہینے میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس دفعہ قادیان میں جا کر روزے رکھوں اور عید وہیں پڑھ کر پھر اپنی ملازمت پر جاؤں۔اُن دنوں میں ابھی نیا نیا ہی فوج میں جمعدار بھرتی ہوا تھا۔( یہ فوج میں جونیئر کمیشن افسر کا ایک رینک ہوتا تھا) تو میری اس وقت ہر چند یہی خواہش تھی کہ اپنی ملازمت پر جانے سے پہلے میں قادیان جاؤں تا حضور کے چہرہ مبارک کا دیدار حاصل کر سکوں اور دوبارہ آپ کے دستِ مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کروں۔کیونکہ میری پہلے بیعت 1895 ء یا 96ء کی تھی۔کہتے ہیں یہ بیعت جو تھی وہ ڈاک کے ذریعے ہوئی تھی۔نیز میرا اُن دنوں قادیان میں آنے کا پہلا موقع تھا اس لئے بھی میرے دل میں غالب خواہش پیدا ہوئی کہ ہونہ ہو ضرور اس موقع پر حضور کا دیدار کیا جائے۔اگر ملازمت پر چلا گیا تو پھر خدا جانے حضور کو دیکھنے کا شاید موقع ملے یا نہ ملے۔لہذا یہی ارادہ کیا کہ پہلے قادیان ہی چلا جاؤں اور حضور کو