خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 289
خطبات مسرور جلد دهم 289 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012ء ی تعلق قائم تھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوع جلد 5 صفحہ 52-53 روایت حضرت اللہ یار صاحب) پھر حضرت ملک خان صاحب روایت کرتے ہیں کہ میں 1902ء میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قادیان دارالامان میں آیا۔یہ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ جب ہم آئے ، اُسی دن بیعت کی یا دوسرے دن۔ہاں یہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ظہر کی نماز کے بعد ہم بیعت کے لئے پیش ہوئے۔حضرت شہید مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے اور پھر دوسرے نمبر پر خاکسار نے ہاتھ رکھے۔بیعت کرنے کے بعد اس خاکسار نے غالباً دو تین یوم قادیان دارالامان میں گزارے ہوں گے کہ شہید مرحوم نے مجھے فرمایا کہ میں نے رؤیا دیکھی ہے کہ آپ کو خوست کے حاکم تکلیف دیں گے۔اس لئے تم فورا واپس چلے جاؤ۔چنانچہ میں دو تین یوم بعد واپس چلا گیا۔میرے ساتھ ایک ملا سپین گل صاحب بھی واپس چلے گئے۔شہید مرحوم ہمیشہ فرما یا کرتے تھے ( حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کا یہ واقعہ ہے جو آپ سے عشق کا یہ بیان فرما رہے ہیں کہتے ہیں کہ فرمایا کرتے تھے ) میں نے اپنے سے زیادہ عالم نہیں دیکھا۔یہ محض خداوند تعالیٰ کا فضل ہے۔یعنی صاحبزادہ صاحب اپنے آپ کو فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے سے بڑا اس وقت تک کوئی عالم نہیں دیکھا ورنہ میں اُس کے پاؤں چومتا۔چنانچہ کہتے ہیں جب یہاں آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی تو کہتے ہیں۔میں نے اپنی آنکھوں سے شہید مرحوم کو دیکھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں مبارک چومے۔اس طرح جوفرمایا تھا اس کی تصدیق فرمائی۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 5 صفحہ 82 روایت حضرت ملک خان صاحب) حضرت مولوی سکندر علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دن قادیان میں آکر رہنے سے پہلے بندہ یہاں آیا ہوا تھا۔( یہ مستقل رہائش سے پہلے ایک دن یہاں آئے تھے ) صبح سیر کے لئے حضرت اقدس تشریف لے گئے تو بندہ بھی ساتھ ہولیا۔کہتے ہیں بھینی بھا نگر کے مقابلے پر بسر اواں والے راستے جا رہے تھے کہ راستے میں جناب نے فرمایا کہ جو لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو چھوڑ نہیں سکتے ، جن کے چھوڑنے سے کوئی ناراض نہیں ہوتا، جیسے حقہ نوشی ، افیم، بھنگ، چرس وغیرہ تو ایسا آدمی بڑی باتوں کو کس طرح چھوڑ سکے گا جس کے چھوڑنے سے ماں باپ، بھائی برادر، دوست ، آشنا ناراض ہوں۔جیسے مذہب کی تبدیلی۔(یعنی احمدیت قبول کرنا کس طرح برداشت کریں گے۔اس کے بعد تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں ) اگر ان چھوٹی تکلیفوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو بڑی تکلیفیں کس طرح برداشت کرو گے؟ کہتے ہیں کہ بندہ اُس