خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 288
خطبات مسر در جلد دہم 288 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012 ء زمین پر اُس کے لئے ایک قبولیت پھیلائی جاتی ہے اور ہزاروں انسانوں کے دلوں میں ایک سچی محبت اُس کی ڈال دی جاتی ہے اور ایک قوت جذب اُس کو عنایت ہوتی ہے اور ایک نور اُس کو دیا جاتا ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 65) پس یہ مقام اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ملا۔اس وقت میں آپ علیہ السلام سے سچی محبت کرنے والوں کے، آپ سے عشق کا تعلق رکھنے والوں کے کچھ واقعات پیش کروں گا۔حضرت اللہ یار صاحب روایت کرتے ہیں کہ حضور کے ساتھ میری ملاقات بہت دفعہ ہمیشہ ہوتی رہی اور مجھے شوق تھا کہ حضور کو ہاتھوں سے دبایا کرتا تھا۔الہام اور حضور کا کلام پاک سنا کرتا تھا ( یعنی مجالس میں بیٹھ کے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض الہامات وغیرہ کا ذکر فرماتے تھے تو اُن کو سنا کرتا تھا)۔اسی شوق میں میں قادیان ہجرت کر کے آیا ( کہ ہمیشہ یہ باتیں سنتار ہوں ) تو یہاں آکر لکڑی وغیرہ کا کام شروع کیا carpentary) کا )۔میرے پاس کافی روپیہ تھا جو کہ خرچ ہو گیا اور جو لے کے آیا تھا وہ بھی خرچ ہو گیا اور پاس کچھ نہ رہا۔پھر کہتے ہیں میں نے ایک دن حلوہ بنا کر بیچنا شروع کیا اور حضور کے بیت الدعا کے نیچے پکارا کہ تازہ حلوہ۔حضرت ام المؤمنین نے میری آوازوں کو سن لیا اور جانتی بھی تھیں۔تو کہتی ہیں یہ ٹھیکیدار نے کیا کام شروع کیا ہے؟ حضور نے فرمایا کہ پروانے شمع پر گرتے ہیں اور کیا کریں؟ یہ اسی کام کے لئے یہاں آیا ہے۔کچھ نہ کچھ تو انہوں نے گزارے کے لئے کرنا ہے۔تو حضرت ام المومنین نے فرمایا کہ ٹھیکیدار ہے۔( شاید ان کے زمانے میں ٹھیکیداروں کے پاس گدھے تھے۔جن سے سامان ادھر اُدھر لے جایا جاتا تھا کہ گدھے لے کر باہر کیوں نہیں چلا جاتا؟ حضور نے فرمایا کہ وہ گدھے والا نہیں ہے۔تو حضرت اتاں جان نے فرمایا کہ کسی کی نوکری کر لے۔حضور نے فرمایا کہ یہ اتنا پڑھا لکھا بھی نہیں ہے۔خیر یہ گفتگو ہوتی رہی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرما یا کہ یہ لکڑی کا کام ہی جانتا ہے وہی کر سکتا ہے۔اُس میں خدا برکت دے۔کہتے ہیں: میں نیچے یہ ساری باتیں سُن رہا تھا۔اس کے بعد حضور نے مجھے بلایا کہ آپ کے پاس کچھ لکڑی ہے؟ تو میں نے عرض کی بیری کی ہے۔پیپل کی ہے۔حضور نے فرمایا کہ مہمان خانے کے لئے چار پائیوں کے پائے چاہئیں۔کیا پائے بن جاویں گے۔تو وہ کہتے ہیں کہ اُسی وقت ایک مختار جو حضور کا تھا، اُس نے کہا کہ پیپل کے پائے زیادہ دیر نہیں چلتے۔حضور نے فرمایا کہ جس کے لئے بنوانے ہیں وہ خود پیپل پیدا کرنے والا ہے۔اس نے بریکار پیدا نہیں کیا اور مجھے بیس جوڑی کا حکم دیا۔( یعنی کسی کا رکن نے کہا کہ نہ بنوائیں۔آپ نے فرمایا نہیں۔جو ہے بنا دو۔یعنی دونوں طرف سے