خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 287
خطبات مسرور جلد دہم 287 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012 ء خطبہ جمہ سید نا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012 ء بمطابق 11 ہجرت 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شرائط بیعت کی دسویں شرط میں اپنے سے تعلق اور محبت اور اخوت کو اُس معیار تک پہنچانا لازمی قرار دیا ہے جس کی مثال دنیا کے کسی رشتے میں نہ ملتی ہو۔یہ مقام آپ کی بیعت میں آنے کے بعد آپ کو دینا کیوں ضروری ہے؟ اس لئے کہ آپ ہی اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ عاشق صادق ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق ایمان کو ثریا سے زمین پر لے کے آئے۔اسلامی تعلیم میں داخل ہونے والی بدعات کو دور فرما کر اسلام کی خالص اور چمکتی ہوئی تعلیم کو پھر سے ہمارے سامنے پیش فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی مقام اور مرتبے کی پہچان ہمیں کروائی اور بندے کو خدا تعالیٰ سے ملایا۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : د میں اپنے بچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفتِ کاملہ کا حصہ پاسکتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 64-65) پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی اور عشق میں فنا ہونا آپ کا خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا اور پہنچانے کا باعث بنا۔اور پھر خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق صادق کو بھی اپنے تک پہنچنے کے ذریعہ میں شامل فرما کر آپ علیہ السلام سے تعلق اور محبت کو اور اخوت کے رشتے کو ضروری قرار دے دیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ سے بھی محبت کے وہ نظارے دکھائے جس نے آخرین کو اولین سے ملا دیا۔اللہ تعالیٰ کے اس سلوک کے بارے میں آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” جب انسان سچے طور پر خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو خدا بھی اُس سے محبت کرتا ہے۔تب