خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 23 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 23

خطبات مسر در جلد دہم 23 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2012ء عطا فرمائی گئی ہیں۔ایک قوت حاصل کرنے کے واسطے۔دوسری حاصل کردہ قوت کو عملی طور پر دکھانے کے لئے۔“ (ایک چیز جو ہے وہ قوت اور طاقت حاصل کرنے کے لئے ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جس سے انسان برائیوں اور گناہوں سے بچے۔اور دوسری چیز یہ کہ جو قوت حاصل ہو گئی ، جو طاقت حاصل ہو گئی پھر اُس کا عملی اظہار بھی ہو۔پھر انسان کا ہر قول و فعل اُس کے مطابق ہو جو اللہ تعالیٰ نے احکامات دیئے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے ہوں ) فرمایا: ” قوت حاصل کرنے کے واسطے استغفار ہے جس کو دوسرے لفظوں میں استمداد اور استعانت بھی کہتے ہیں۔“ ( اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا۔استغفار جو ہے اُس کا دوسرے لفظوں میں نام اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا ہے ) صوفیوں نے لکھا ہے کہ جیسے ورزش کرنے سے مثلاً مگدروں اور موگریوں کے اُٹھانے اور پھیرنے سے جسمانی قوت اور طاقت بڑھتی ہے۔اسی طرح پر رُوحانی مگدر استغفار ہے۔(مسلسل استغفار کرنے سے انسان کی روحانی حالت بہتر ہوتی ہے، طاقت آتی ہے ) فرمایا کہ اس کے ساتھ رُوح کو ایک قوت ملتی ہے اور دل میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔جسے قوت لینی مطلوب ہو وہ استغفار کرے۔( جو چاہتا ہے کہ اپنی روحانی طاقت میں اضافہ کرے اُس کو زیادہ سے زیادہ استغفار کرنی چاہئے ) " غَفَر ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔استغفار سے انسان اُن جذبات اور خیالات کو ڈھانپنے اور دبانے کی کوشش کرتا ہے خدا تعالیٰ سے روکتے ہیں۔“ (استغفار کرتے رہو تو ان جذبات اور خیالات کو انسان دبائے گا جو اس بات سے روکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی پیروی کی جائے۔جو نیکیوں سے روکتے ہیں۔اس کی تفصیل قرآن کریم میں سینکڑوں احکامات کی صورت میں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ اگر ایک آدھ حکم کو بھی اور نیکی کو بھی تم اہمیت نہیں دیتے تو اس کا مطلب ہے تم پوری کوشش نہیں کر رہے ) فرمایا ”پس استغفار کے یہی معنے ہیں کہ زہریلے مواد جو حملہ کر کے انسان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔اُن پر غالب آوے۔“ (اب زہریلے مواد کیا ہیں؟ شیطان کے مختلف حملے ہیں۔دنیا کی چکا چوند ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے جو حکم ہیں جن کے بارے میں نہ کرنے کا حکم ہے، اُن سے بچنا۔یہ سب زہریلے مواد ہیں۔تو جب استغفار کرے گا تو ان زہریلے مواد سے، ان بری باتوں سے، ان بدیوں سے انسان بچے گا اور نیکیاں جو ہیں ان برائیوں پر غالب آجائیں گی ) پھر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری کی راہ کی روکوں سے بچ کر انہیں عملی رنگ میں دکھائے۔یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں دو قسم کے مادے رکھے ہیں۔ایک تھی مادہ ہے جس کا موکل شیطان ہے (یعنی ایک زہریلا مادہ ہے جس کی ترغیب دینے والا ، جس کی طرف توجہ