خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 283 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 283

خطبات مسرور جلد دہم 283 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 مئی 2012 ء لیٹ گیا اور چار بجے کے قریب جب چاند چڑھا (لیٹ نائٹ (Late Night) آخری وقت تھا ، چاند کے دن تھے، چاند نکلا) تو میں نے اُس شخص کو کہا کہ مجھے راستہ دکھا دو۔وہ مجھے وڈالہ تک چھوڑ گیا اور مجھے سڑک دکھا گیا۔چنانچہ میں نے صبح کی نماز نہر پر پڑھی اور سورج نکلنے کے قریباً ایک گھنٹہ بعد قادیان پہنچ گیا۔قادیان کے چوک میں جا کر میں نے ایک شخص سے پوچھا کہ بڑے مرزا صاحب کہاں ہیں ؟ اس نے مجھے کہا کہ وہاں نہا کر سامنے مکان کی حویلی میں تخت پوش پر بیٹھے حقہ پی رہے ہیں۔( مرزا نظام الدین کی طرف اشارہ کر دیا کہتے ہیں) میں سنتے ہی آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک معمر شخص نہا کر تخت پوش پر بیٹھا ہے اور بدن بھی ابھی اس کا گیلا ہی ہے اور حقہ پی رہا ہے۔مجھے بہت نفرت ہوئی اور قادیان آنے کا افسوس بھی ہوا۔( اتناتر ڈ کیا، اتنی محنت کی ،سفر کیا ، قادیان آیا ہوں تو میں اس شخص کو دیکھ رہا ہوں۔کہتے ہیں ) میں مایوس ہو کر واپس ہوا۔(اللہ تعالیٰ نے رہنمائی کرنی تھی تو کہتے ہیں)۔موڑ پر ایک شخص شیخ حامد علی صاحب ملے۔انہوں نے مجھے پوچھا کہ آپ کس جگہ سے تشریف لائے ہیں اور کس کو ملنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا میں نے جس کو ملنا تھا اس کو میں نے دیکھ لیا ہے اور اب میں واپس لاہور جا رہا ہوں۔میرے اس کہنے پر انہوں نے مجھے فرمایا کہ کیا آپ مرزا صاحب کو ملنے کے لئے آئے ہیں تو وہ یہ مرزا نہیں ہے ( جن کو آپ مل کر آئے ہیں ) وہ اور ہیں اور میں آپ کو ان سے ملا دیتا ہوں۔تب میری جان میں جان آئی اور میں کسی قدر تسکین پذیر ہوا۔حامد علی صاحب نے مجھے فرمایا کہ آپ ایک رقعہ لکھ دیں میں اندر پہنچا تا ہوں۔چنانچہ میں نے ایک رقعے پر پنسل کے ساتھ ایک خط لکھا جس میں میں نے مختصر یہ لکھا کہ میں طالب علم ہوں۔لاہور سے آیا ہوں۔زیارت چاہتا ہوں اور آج ہی واپس جانے کا ارادہ ہے۔حضور نے اس کے جواب میں کہلا بھیجا کہ مہمانخانے میں ٹھہریں اور کھانا کھائیں اور ظہر کی نماز کے وقت ملاقات ہو گی۔اس وقت میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔اس وقت میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں ) اور اس کا مضمون میرے ذہن میں ہے اگر میں اس وقت ملاقات کے لئے آیا تو ممکن ہے کہ وہ مضمون میرے ذہن سے اتر جائے۔اس واسطے آپ ظہر کی نماز تک انتظار کریں۔مگر مجھے اس جواب سے کچھ تسلی نہ ہوئی۔میں نے دوبارہ حضرت کو لکھا کہ میں تمام رات مصیبت سے یہاں پہنچا ہوں اور زیارت کا خواہش مند ہوں۔للہ مجھے اسی وقت شرف زیارت سے سرفراز فرمائیں۔تب حضور نے مائی دادی کو کہا کہ ان کو مبارک مسجد میں بٹھاؤ اور میں ان کی ملاقات کے لئے آتا ہوں۔مجھے وہاں کوئی پندرہ منٹ بیٹھنا پڑا۔اس کے بعد حضور نے مائی دادی کو بھیجا کہ ان کو اس طرف بلا لاؤ۔حضرت صاحب اپنے مکان سے گلی میں آگئے اور میں بھی اس گلی