خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 277
خطبات مسرور جلد دہم 277 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 مئی 2012ء میں تمنا تھی بخدا اُس سے کہیں بڑھ کر آپ کو پایا۔ہم سب لوگ جو وہاں پر موجود تھے حضرت اقدس کے تشریف لانے پر تعظیم کے لئے کھڑے ہو گئے۔آپ کے نورانی چہرہ مبارک کو دیکھ کر دل میں اطمینان ہو گیا اور دوسری اچھی سے اچھی شکلیں آپ کے سامنے ماند ہو گئیں۔(رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 11 صفحہ نمبر 360 تا 362 روایت حضرت میاں محمد ظہور الدین صاحب ڈولی) حضرت شیخ عبدالکریم صاحب فرماتے ہیں کہ میں 1903ء میں حکیم احمد حسین صاحب لائلپوری کے ذریعے احمدی ہوا تھا۔حکیم صاحب گولا ہور کے باشندے تھے مگر چونکہ لائلپور میں حکمت کا کام کرتے تھے اور وہیں اُن کی وفات ہوئی اس لئے لائلپوری مشہور ہیں۔وہ اپنے کام کے لئے کراچی تشریف لائے تھے۔اُن کی تبلیغ سے میں احمدی ہو گیا تھا۔1904 ء میں جب میں لاہور گیا تو اُن کے مکان پر ہی ٹھہرا تھا۔جب میں جمعہ پڑھنے گٹی کی مسجد میں گیا تو وہاں اعلان کیا گیا کہ حضور تشریف لانے والے ہیں۔حضور کا ایک لیکچر بھی یہاں ہوگا۔چنانچہ یہ اعلان سن کر میں بھی ٹھہر گیا۔جب حضور تشریف لائے تو میاں معراج الدین صاحب کا مکان تیار ہورہا تھا اور بعض کمرے مکمل بھی ہو چکے تھے۔حضرت صاحب نے وہیں قیام کرنا پسند فرمایا تھا اور اس میں جمعہ کی نماز بھی پڑھی تھی۔خطبہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھا تھا اور نماز بھی اُنہوں نے ہی پڑھائی تھی۔میں دیوانہ وار پھر رہا تھا اور چاہتا تھا کہ حضرت اقدس سے کسی نہ کسی طریق سے ملاقات ہو جائے۔اتنے میں ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ کر زور سے آگے گیا۔میں پہلی صف میں حضرت اقدس کے ساتھ بائیں طرف کھڑا ہو گیا ( بائیں طرف) میں جب التحیات میں بیٹھا تو اپنے گناہوں کا خیال کر کے اور حضرت اقدس کے ساتھ اپنا کندھا لگنے کا خیال کر کے بے اختیار رو پڑا۔ہچکی بھی بندھ گئی۔حضرت اقدس نے میری یہ حالت دیکھ کر میری پیٹھ پر اپنا دستِ شفقت پھیرا اور تسلی دی۔( نماز کے بعد ہوا ہوگا یا پہلے۔التحیات پر بیٹھے تھے تو سلام پھیرنے کے بعد ہی شفقت کا ہاتھ پھیرا ہو گا۔نماز کے دوران نہیں۔بہر حال پھر لکھتے ہیں ) جب حضرت اقدس قادیان روانہ ہوئے تو عاجز بھی ساتھ ہو گیا۔قادیان میں پہنچے ہی تھے کہ تاریخ پر گورداسپور جانا پڑا۔میں بھی ساتھ ہولیا۔عصر کی نماز کے بعد ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے مسیح موعود کو دیکھ لیا ہے اور بیعت کر لی ہے۔ہماری بخشش کے لئے صرف یہی کافی ہے۔( یعنی لوگوں کا خیال ہے کہ بیعت کر لی ہے تو بس سارے کام ہو گئے۔فرمایا ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اصل چیز ايّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہے۔اس سے انسان کا بیڑا پار ہو سکتا ہے۔ہم تو صرف راستہ دکھانے کے لئے آئے تھے ، سو ہم نے راستہ دکھا دیا۔“ (رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 1 صفحہ نمبر 1-2 روایت حضرت شیخ عبدالکریم صاحب)