خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 275
خطبات مسرور جلد دہم 275 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 مئی 2012 ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ مل کر نمازیں پڑھنے کا موقع دیا۔یہ حض اللہ کا فضل ہی تھا کہ ہمارے جیسے کمزوروں کو اُس نے اس مبارک زمانے میں پیدا کر کے مبارک وجود سے ملا دیا۔والحمد لله على ذالك 66 (رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 11 صفحہ 364 روایت حضرت میاں محمد ظہور الدین صاحب ڈولی) پھر حاجی محمد موسیٰ صاحب بیان کرتے ہیں کہ اُس زمانے میں میرا کئی سال یہ دستور العمل رہا کہ نیا سٹیشن پر سٹیشن کا نام تھا) ایک جمعدار کے پاس ایک بائیسکل ٹھوس ٹائروں والا رکھا ہوا تھا ( یعنی وہ بائیسکل تھا جس کے ٹائروں میں ہوا کے بجائے صرف ربڑ چڑھا ہوا تھا ) جمعہ کے روز میں لاہور سے بٹالہ تک گاڑی پر جاتا اور وہاں سے سائیکل پر سوار ہو کر قادیان جاتا اور جمعہ کی نماز کے بعد واپس سائیکل پر بٹالہ آجاتا۔جہاں سے گاڑی پر سوار ہو کر لاہور آ جاتا۔“ (رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 11 صفحہ نمبر 11-12 روایت حضرت حاجی محمد موسیٰ صاحب) ( ہر جمعہ کا یہ اُن کا دستور تھا کہ لاہور سے با قاعدہ قادیان جمعہ پڑھنے جاتے تھے اور گیارہ بارہ میل کا سفر، بلکہ آنا جانا بائیس میل سائیکل پر کرتے تھے۔) پھر حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”جب میں پہلے پہلے فروری 1901ء میں قادیان آیا اور دستی بیعت کی، کیونکہ تحریری بیعت میں اگست 1900ء میں کر چکا تھا۔تو میں نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے پوچھا کہ اپنے سلسلے کا کوئی وظیفہ بتا ئیں۔فرمایا سلسلہ کا وظیفہ یہ ہے کہ بار بار قادیان آیا کرو۔تو مجھے فوراً ہی خیال آیا کہ قادیان میں مکان بنایا جائے تا کہ والدین اور بیوی بچے یہاں رہیں اور جب کبھی رخصتیں آئیں تو سیدھے قادیان آ کر ہی رہیں۔( قادیان میں مکان بنالیا جائے تا کہ جب بھی چھٹیاں ہوں یہیں آکر رہیں) لہذا واپس جاتے ہی میں نے افریقہ، مشرقی جہاں میں ملازم تھا۔چھ صد روپیہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے نام بھیج دیا کہ میرے لئے مکان بنا دیا جائے ،مگر تین سال کے بعد جب میں واپس آیا تو مولوی صاحب نے مجھے روپیہ واپس کر دیا اور معذرت کی کہ مجھے موقع نہیں ملا۔مولوی صاحب حضرت اقدس کے بالا خانے پر رہتے تھے۔روپیہ واپس دیتے وقت انہوں نے فرمایا کہ یہ سب بڑے بڑے مکانات احمدیوں کے ہی ہیں ( یعنی جو غیروں کے، ہندؤوں کے مکان تھے، کہنے لگے یہ سب احمدیوں کے ہیں)۔خاص کر ڈپٹی ہندو کے مکان کی طرف اشارہ کیا جس میں اب ہمارے دفاتر ہیں۔لکھتے ہیں کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب عرفان کی چوٹیوں پر پہنچے ہوئے تھے۔“ (رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 11 صفحہ نمبر 79-80 بقیہ روایات حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب)