خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 274
خطبات مسرور جلد دہم 274 18 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 مئی 2012 ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 4 مئی 2012 ء بمطابق 4 ہجرت 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے وہ واقعات لئے ہیں جن میں انہوں نے اپنے اُن جذبات و احساسات کا ذکر کیا ہے، اُس شوق کا ذکر کیا ہے جس کے تحت وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے اور زیارت کا شوق رکھتے تھے۔حضرت میاں محمد ظہور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز یونہی بیٹھے بیٹھے میرے دل میں قادیان شریف جانے کا ابال سا اُٹھا۔میں نے برادرم مکرم منشی سراج الدین صاحب سے ذکر کیا کہ میرا یہ ارادہ ہے۔اُس وقت میرے پاس خرچ کو ایک پیسہ بھی نہ تھا۔برادرم منشی سراج الدین صاحب نے مجھے ایک روپیہ دے کر کہا کہ اس وقت میرے پاس بھی ایک ہی روپیہ ہے ورنہ اور دیتا۔میں نے پھر قاضی منظور احمد صاحب سے ذکر کیا کہ میں تو قادیان جا رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں ( بھی ) چلتا ہوں۔دوسرے روز ہم دونوں قادیان روانہ ہو گئے۔بٹالہ سے پیدل چل کر قادیان ظہر کے وقت پہنچے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کر کے طبیعت کو تسلی ہوئی۔الحمد لله على ذالك (رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 11 صفحہ نمبر 363-364 روایت حضرت میاں محمد ظہور الدین صاحب ڈولی) پھر لکھتے ہیں ” حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ بھی کیا پر لطف زمانہ تھا کہ آپ کی خدمت میں پہنچ کر پیچھے کی کوئی خبر نہ رہتی تھی۔دل نہ چاہتا تھا کہ آپ سے جدا ہوں۔اُس دفعہ ہم جو قادیان پہنچے، آگے جا کر دیکھا کہ میرے خسر قاضی زین العابدین بھی پہنچے ہوئے تھے۔ہم حضرت مسیح موعود کی ملاقات سے بہت خوش تھے۔اب کی دفعہ ہم قادیان چار پانچ روز رہے اور اللہ تعالیٰ نے