خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 273
خطبات مسرور جلد دہم 273 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2012 ء اسلام بھی بجالاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد اُن کے شامل حال نہیں ہوتی اور اُن کے اخلاق اور عادات میں کوئی نمایاں تبدیلی دکھائی نہیں دیتی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی عبادتیں بھی رسمی عبادتیں ہیں۔حقیقت کچھ بھی نہیں، کیونکہ احکام الہی کا بجالانا تو ایک بیج کی طرح ہوتا ہے جس کا اثر روح اور وجود دونوں پر پڑتا ہے۔ایک شخص جو کھیت کی آبپاشی کرتا اور بڑی محنت سے اُس میں بیج بوتا ہے اگر ایک دو ماہ تک اُس میں انگوری نہ نکلے (یعنی بیج نہ پھوٹے ) تو مانا پڑتا ہے کہ بیج خراب ہے۔یہی حال عبادات کا ہے۔اگر ایک شخص خدا کو وحدہ لاشریک سمجھتا ہے، نمازیں پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے اور بظاہر نظر احکام الہی کو حتی الوسع بجالاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص مدد اس کے شامل حال نہیں ہوتی تو ماننا پڑتا ہے کہ جو بیچ وہ بور ہا ہے وہی خراب ہے۔یہی نمازیں تھیں جن کو پڑھنے سے بہت سے لوگ قطب اور ابدال بن گئے۔مگر تم کو کیا ہوگیا جو باوجود اُن کے پڑھنے کے کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب تم کوئی دوا استعمال کرو گے اور اگر اس سے کوئی فائدہ محسوس نہ کرو گے تو آخر ماننا پڑے گا کہ یہ دوا موافق نہیں۔یہی حال ان نمازوں کا سمجھنا چاہیئے۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 386-387 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) اللہ کرے کہ ہم اس پیغام کو سمجھنے والے ہوں اور اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی رنگ میں وہ عبادتوں کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی رضا کو حاصل کرنے والا بنائے۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 18 مئی تا 24 مئی 2012 جلد 19 شماره 20 صفحه 5 تا8)