خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 269
خطبات مسرور جلد دہم 269 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2012 ء پڑھ لینا۔پنجابی میں کہا ”نئیں تے بھکا مریں گا“۔( کہتے ہیں ) اور کہا کہ کل دوپہر کو روٹی ملے گی پھر۔میں نے کہا کہ یہاں روٹیاں کھانے نہیں آیا۔نماز ہی تو اصل چیز ہے۔اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔یہ کہہ کر نماز عشاء میں شامل ہو گیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحه 409) حکیم فضل الرحمن صاحب اپنے والد حافظ نبی بخش صاحب کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ آپ کے اندر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ایک عشق موجود تھا اور طبیعت میں احتیاط ایسی ہے کہ جب کبھی کوئی حضور علیہ السلام کے حالات سنانے کے لئے کہے تو یہی جواب دیتے ہیں کہ مجھے اپنے حافظے پر اعتبار نہیں۔ایسا نہ ہو کہ کوئی غلط بات حضور کی طرف منسوب کر بیٹھوں۔آپ محکمہ نہر میں پٹواری تھے اور گرداوری کے دنوں میں قریباً سارا سارا دن گھومنا پڑتا حتی کہ جیٹھ ہاڑ کے مہینوں میں بھی۔یعنی پنجاب میں گرمی کے جو شدید مہینے ہوتے ہیں، اُن میں بھی گھومنا پڑتا اور اس سے جس قدر تھکاوٹ انسان کو ہو جاتی ہے وہ بالکل واضح ہے۔مگر رات کو آپ تہجد کے لئے ضرور اٹھتے۔اور ہم پر بھی زور دیتے ( یعنی بچوں کو بھی زور دیتے۔جوان بچے تھے )۔جب رمضان کے دن ہوتے تو باوجود اس قدر گرمی کے روزے بھی باقاعدہ رکھتے۔سردی کے دنوں میں تہجد کی نماز عموماً قراءت جہری سے پڑھ کر بچوں کو ساتھ شامل فرما لیتے ( یعنی اونچی آواز میں پڑھتے )۔آپ خدا کے فضل سے حافظ قرآن ہیں ( تھے اُس وقت )۔ہمیں نماز روزے کی بہت تاکید فرماتے بلکہ کڑی نگرانی فرماتے اور شستی پر بہت ناراض ہوتے۔قرآن کریم ہمیں خود پڑھایا۔جب دن کو اپنے کاروبار میں مشغولیت کے باعث وقت نہ ملتا تو رات کو پڑھاتے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحه 1-2) والدین کے لئے یہ نمونہ ہے۔بچوں کی تربیت کا یہ نمونہ ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔اور اسی طرح اپنی عبادات جو ہیں وہ والدین کی ہوں گی تو بچے نمونہ پکڑیں گے۔ان ملکوں میں جہاں دین سے لوگ دور ہورہے ہیں۔ہمارے بعض بچے بھی متاثر ہورہے ہیں۔اس لحاظ سے ان ملکوں میں تو بہت زیادہ کوشش کی ضرورت ہے۔نہ صرف خود دین پر قائم رہنا ہے بلکہ اپنے معیار بڑھانے ہیں اور پھر اس سے بڑھ کر بچوں کی نگرانی بھی کرنی ہے اور تربیت کی طرف بھی توجہ دینی ہے۔اگر چالیس پینتالیس سال کے لوگ بھی جو میں نے دیکھے کہ خود آدھی رات تک ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں یا انٹرنیٹ پر بیٹھے رہتے ہیں، بعضوں کی شکایتیں اُن کی بیویوں کی طرف سے بھی آجاتی ہیں تو وہ بچوں کی کیا تربیت کریں گے؟ پس ان ملکوں میں رہنے والے احمدیوں کے لئے خاص طور پر اور تمام دنیا میں ہی احمدیوں کے