خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 264 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 264

خطبات مسرور جلد دہم 264 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2012 ء کے لئے، اس سے روحانی فیض پانے کے لئے، تیری کامل فرمانبرداری کرنے کے لئے ہماری نسلوں میں سے بھی ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں اور یہی ایک مومن کی بھی دعا ہونی چاہئے۔پس یہی سبق ہے جو آج ہمارے لئے ہے کہ مسجد کے ساتھ صرف بڑے بوڑھوں کا تعلق قائم نہ ہو یا جو فارغ لوگ ہیں اُن کا تعلق قائم نہ ہو بلکہ اپنی مصروفیت میں سے بھی وقت نکال کر لوگ عبادت کے لئے یہاں آئیں اور آباد کریں۔اپنی نسلوں کا تعلق پیدا کرنے کی بھی ہم کوشش کریں۔ہماری نسلوں میں نو جوانوں اور بچوں میں بھی عبادت کی تڑپ پیدا ہو جائے۔اس کے لئے جہاں عملی کوشش کی ضرورت ہے وہاں بہت بڑا ذریعہ دعا ہے۔اللہ تعالیٰ جو دلوں کا حال جاننے والا ہے اور سننے والا ہے، نیک نیتی سے کی گئی دعاؤں کو سنتا ہے۔اس لئے دعامانگیں کہ جب یہ عبادتوں کی جاگ، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی جاگ لگتی ہے تو یہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل میں لگتی چلی جائے۔اگر خود عبادتوں میں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے میں سستی ہو تو نسلوں میں بھی پھر سستی رہتی ہے۔پس ہر مسجد کی تعمیر کے ساتھ جہاں ہمیں اپنی حالتوں کی طرف توجہ دینے کی اور دعاؤں کی ضرورت ہے وہاں اپنی اولاد کی تربیت کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جو یہ دعا ہے کہ وارنا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَيْنَا۔یہ ہمیں اپنی تربیت اور عبادتوں کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے اور اپنی اولاد کی بہتر حالتوں کی طرف لے جانے کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے۔مناسكنا کا مطلب ہے کہ عبادت اور حقوق اور وہ تمام باتیں جو خدا تعالیٰ کے حضور ہمیں ادا کرنی چاہئیں۔پس عبادت کے ساتھ تمام حقوق اللہ ادا کرنے کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے اور پھر یہ بھی کہ ان عبادتوں اور حقوق اللہ کی ادائیگی کے بعد اپنے زعم میں کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں نے بہت کچھ کر لیا ہے۔یہ دعا ہے کہ تب علينا۔ہماری توبہ قبول کر لے۔ہماری طرف متوجہ ہو۔اور ایسی تو بہ قبول کر کہ اگر ہم چھوٹی موٹی غلطیاں کر بھی جائیں تو درگز ر کر دیا کر۔تو یقیناً توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔پس جب ایک تسلسل سے خود بھی یہ دعا کی جائے گی تو مسجد کی تعمیر کا مقصد بھی پورا ہو گا۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوشش کا حق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ ہو گی۔اپنی اولادوں کو بھی اس راستے پر ڈالنے کی کوشش ہوگی اور اُن اعلیٰ ترین برکات اور رحمتوں کا فیض بھی ہمیں ملے گا جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعاؤں کی قبولیت کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جاری فرمایا اور جن برکات نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر ایک ایسا انقلاب پیدا کیا کہ مُردے زندہ ہونے لگے۔روحانیت