خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 21

خطبات مسرور جلد و هم 21 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2012ء کا قرب دلانے کے لئے آیا ہے، عبادت کے طریقے سکھانے کے لئے آیا ہے تو پھر تمہیں دنیا و آخرت کی بشارتوں کی خوشخبری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے ذریعے کے بارے میں بیان فرماتے ہیں : ’ہاں یہ سچ ہے کہ انسان کسی مزگی انفس کی امداد کے بغیر اس سلوک کی منزل کو طے نہیں کرسکتا۔اسی لیے اس کے انتظام و انصرام کے لئے اللہ تعالیٰ نے کامل نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا اور پھر ہمیشہ کے لئے آپ کے سچے جانشینوں کا سلسلہ جاری فرمایا فرماتے ہیں جیسے یہ امر ایک ثابت شدہ صداقت ہے کہ جو کسان کا بچہ نہیں ہے۔فلائی ( گوڈی دینے) کے وقت اصل درخت کو کاٹ دے گا“ ( پودوں کو کاٹ دے گا)۔اسی طرح پر یہ زمینداری جو روحانی زمینداری ہے کامل طور پر کوئی نہیں کر سکتا جب تک کسی کامل انسان کے ماتحت نہ ہو جو تخمریزی، آبپاشی ، نلائی کے تمام مر حلے طے کر چکا ہو۔اسی طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ مُرشد کامل کی ضرورت انسان کو ہے۔مُرشد کامل کے بغیر انسان کا عبادت کرنا اسی رنگ کا ہے جیسے ایک نادان و ناواقف بچہ ایک کھیت میں بیٹھا ہوا اصل پودوں کو کاٹ رہا ہے اور اپنے خیال میں سمجھتا ہے کہ وہ گوڈی کر رہا ہے۔یہ گمان ہرگز نہ کرو کہ عبادت خود ہی آجائے گی۔نہیں۔جب تک رسول نہ سکھلائے انقطاع الی اللہ اور تبتل تام کی راہیں حاصل نہیں ہوسکتیں۔“ ( اللہ تعالیٰ کی طرف پوری توجہ پیدا نہیں ہوسکتی۔اُس کے آگے اُس کی پہچان نہیں ہو سکتی )۔فرمایا کہ ”پھر طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مشکل کام کیونکر حل ہو۔اس کا علاج خود ہی بتلایا۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 348 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) اور اس کا علاج اللہ تعالیٰ نے کیا بتلایا ؟ علاج اس کا استغفار بتایا کہ استغفار کرو۔خالص ہوکر استغفار کرو گے، اللہ تعالیٰ کے رسول کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے گناہوں سے معافی مانگو گے اور آئندہ کے لئے گناہوں سے دور رہنے کا عزم اور کوشش کرو گے تو وہ حقیقی استغفار ہوگا۔لیکن یہ واضح ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ سچے جانشینوں کو بھیجتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے پہلے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور پھر اس کے بعد اس زمانے میں بلکہ آئندہ زمانوں تک کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے جانشین ہیں، جو خاتم الخلفاء ہیں۔پس حقیقی استغفار کرنے والے اور عبادتوں کے معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے کی یقیناً خدا تعالی رہنمائی فرمائے گا اگر وہ سچے جانشین کی حقیقی اتباع بھی کرنے والا ہو اور اس کے حکموں پر