خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 263 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 263

خطبات مسرور جلد دہم 263 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2012ء مومن ہمیشہ صدمات پر خدا تعالیٰ کی آغوش میں آتے ہوئے اطمینانِ قلب پاتا ہے۔قرآنِ کریم میں ایک جگہ سورۃ رحمان میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتُنِ (الرحمن: 47) کہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اُس کے لئے دو جنتیں ہیں۔پس جو اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا ذکر، اُس کی عبادت کرنے والے ہیں وہ اطمینانِ قلب حاصل کر کے اس دنیا میں بھی جنت حاصل کرتے ہیں اور پھر اس دنیا کی جنت جو ایک بندے کو عہد رحمان بننے کی وجہ سے ملتی ہے، وہ اگلے جہان کی جنت کا بھی وارث بنا دیتی ہے۔پھر اگلی آیت جو میں نے تلاوت کی ہے۔اس میں حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل یہ دعا مانگ رہے ہیں کہ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ کہ اے ہمارے رب ! ہم جو دو ہیں، ہمیں نیک بندے بنادے۔یہ بھی دیکھیں ، پھر ایک اور دفعہ انتہائی عاجزی کا مقام ہے۔سب قربانیاں کرنے کے باوجود، اللہ تعالیٰ کے فرستادے ہونے کے باوجود پھر بھی یہ دعا ہے کہ اے خدا! ہمیں تو اپنے نیک بندے بنادے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنی بیوی اور بیٹے کو بے آب و گیاہ جگہ میں خدا کے حکم کی تعمیل میں چھوڑنے کے باوجود یہ عرض ہے کہ مجھے اپنا فرمانبردار بنا دے۔سب کچھ اللہ تعالیٰ کی خاطر دے دیا۔اولا د دے دی۔بیوی دے دی۔پھر بھی یہ ہے کہ ایسی فرمانبرداری عطا فرما کہ میں کامل اطاعت کرنے والا بن جاؤں۔بیٹے کا گلے پہ چھری پھروانے کے لئے تیار ہونے کے باوجود جو خالصتہ اللہ تعالیٰ کی خاطر تھا، پھر یہ عرض ہے کہ ہمیں ہر حکم کو ماننے والا اور فرمانبردار اور نیک بنادے۔پس یہ مقام ہے جو ایک مومن کو حاصل کرنا چاہئے کہ کبھی اپنی نیکیوں پر فخر نہ ہو۔نہ ہی اُن پر بھروسہ ہو۔کبھی اپنی قربانیوں کا مان نہ ہو۔خدا تعالیٰ کے حضور تو ڈرتے ڈرتے ہر وقت یہ عرض ہے کہ اے اللہ! ہمارے عمل تو کچھ بھی نہیں ہیں۔اگر تیر افضل ہو گا تو ہم نیک بندے بن سکتے ہیں۔عبد رحمن بن سکتے ہیں۔پس ہماری استدعا ہے، ہماری دعا ہے، عاجزانہ درخواست ہے کہ ہمیں نیکیوں پر قائم رکھنا اور اپنے ساتھ وفا کا تعلق رکھنے والا بنانا۔اپنی رضا پر چلنے والا بنانا کہ یہی وہ عظیم مقصد ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔اور پھر صرف اپنے لئے ہی نہیں بلکہ ہم اپنی نسل کے لئے بھی دعا کرتے ہیں۔وہ دعا یہ ہے کہ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لك كہ اور ہماری ذریت میں سے بھی فرمانبردار اور تیرے احکام بجالانے والی امت پیدا کر۔پس اللہ کا گھر بنا کر پھر اپنی زندگی تک ہی اُس کی آبادی کی فکر نہیں بلکہ عرض کی کہ اس کو آبا در کھنے