خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 257
خطبات مسرور جلد دہم 257 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012 ء تھا اور جو کچھ یہ ہورہا تھا میری طاقت اور اختیار سے باہر کی بات تھی ، اس وقت پانی اپنی طغیانی اور طاقت کے ساتھ مجھ پر پورے طور پر متصرف نظر آتا تھا کہ ناگاہ کسی زبردست ہاتھ نے مجھے اُس گرداب کے چکر سے باہر پھینکا اور زور کے ساتھ اتنا دور پھینکا کہ میں کنارے کی طرف ایک بول کا بہت بڑا درخت جو دریا کے کنارے سے دریا کے اندر دور تک گھرا پڑا تھا اُس کی شاخ میرے ہاتھ میں محض قدرت کے تصرف سے آگئی اور میں سنبھل گیا اور شاخوں کا سہارا لے کر دیر تک آرام کی خاطر وہاں خاموش کھڑا رہا۔پھر خدا کے، ہاں محض حضرت خیر الراحمین کے فضل و کرم سے میں باہر سلامتی کے کنارے تک پہنچ گیا۔اُس وقت مجھے وہ خواب اور اُس کی یہ تعبیر آنکھوں کے سامنے آگئی۔اور مجھے اُس وقت یہ بھی معلوم ہوا کہ قضاء و قدر رویا میں ہاتھی کے نیچے آنے کی تعبیر میں کبھی ہاتھی کی جگہ کوئی دوسری آفت بھی ظاہر کر دیتی ہے۔حالانکہ اس سفر میں ہاتھی پر ہی ہم سوار ہوکر دریا پر پہنچے لیکن رؤیا کا انذاری پہلو ہاتھی کی جگہ دریا کے حادثہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔دوسرے مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ گرداب سے میرا بچ جانا بطفیل برکات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہوا تھا اور آپ کی اجازت اور ارشاد کے ماتحت میرا کپور تھلے میں آنا اور خدمتِ سلسلہ میں تبلیغ کا کام کرنا ، اس کی وجہ سے میں ہلاکت سے بچایا گیا ورنہ اسباب کے لحاظ سے حالات بالکل مایوس کن نظر آتے تھے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ - غیر مطبوعہ - جلد 10 صفحہ 19 ، 25 تا 28) تو یہ واقعات بھی صحابہ کی ایمانی حالت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یقین کا اظہار کرتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے جس طرح بیان فرمایا ہے اگر کوئی دنیا دار ہوتا تو اس کو اتفاقی بات قرار دیتا کہ اتفاق ایسا ہوا کہ دریا نے مجھے پھینک دیا۔لیکن حضرت مولوی صاحب نے دین کی خاطر سفر کو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کو اس کی وجہ قرار دیا۔تو یہ ہے جو ایمانی حالت ہے جو ہم سب میں پیدا ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 11 مئی تا 17 مئی 2012 جلد 19 شماره 19 صفحہ 5 تا9)