خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 242
خطبات مسرور جلد دہم 242 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012 ء بالکل ان پڑھ تھی۔اُس نے کہا کہ جب یہ لوگ حضرت صاحب کو مہدی ماننے کے لئے تیار نہیں تو ہم کو برا کہنے کے لئے کیوں کہتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے ہمارا انتظام پہلے ہی کر دیا ہے ( یعنی روزی کا بندو بست کر دیا ہے ) اس لحاظ سے بھی ہمیں کوئی فکر نہیں۔آپ لکھ دیں کہ ہم ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں۔آپ بیشک ہمیں جائیداد سے عاق کر دیں۔کہتے ہیں میں نے ایسا ہی لکھ دیا۔میرے والد صاحب نے جواب دیا کہ تم میرے اکلوتے بیٹے ہو۔تم ہی میرے وارث ہو۔میں نے لوگوں کے اکسانے سے ایسا لکھ دیا تھا۔میں نے دوبارہ بھی لکھا مگر اُن کا یہی جواب آیا۔میں جب رخصت پر آیا تو کوئی نو بجے کا وقت تھا۔میں اور بھائی محمد حسین صاحب اور بھائی محمد عالم صاحب مرحوم والد صاحب کے ساتھ تبادلہ خیالات کر رہے تھے اور بحث گرما گرم تھی۔میرے والد صاحب نے کہا کہ میں مرزا صاحب کو اُس وقت سے جانتا ہوں جب آپ سیالکوٹ میں ملازم تھے۔میں آپ کو ملا کرتا تھا۔آپ بہت نیک آدمی تھے۔مجھے یاد ہے کہ میرے رو برو ایک مسلمان زمیندار سیالکوٹ کے مشرق کی طرف سے کسی گاؤں کا رہنے والا آپ کے پاس آیا اور مرزا صاحب کو کہنے لگا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کہ مرزا جی! میں خیال کرتا ہوں کہ آپ وہ مہدی معلوم ہوتے ہیں جو آنے والا ہے۔اُس وقت مرزا صاحب کی عمر بیس بائیس سال کی تھی اور میری عمر بھی قریباً اتنی ہی تھی۔کہتے ہیں جب میرے والد صاحب کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تو میں نے اپنے والد صاحب سے عرض کیا کہ آپ کے رو برو اس زمیندار کی زبان سے حضرت صاحب کی نسبت ایسے الفاظ نکلنے ، یہ آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے حجت قائم کی ہے۔مگر والد صاحب فرمانے لگے کہ خواہ مرزا صاحب بچے ہوں۔میں نہیں مانوں گا۔اس پر ہم لوگوں نے استغفار پڑھا اور اُٹھ کر چلے گئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد 9 صفحہ 65 تا 67) پھر ایک روایت ہے حضرت شیخ عبدالرشید صاحب بیان فرماتے ہیں کہ مولوی محمد علی بو پڑی بٹالہ آیا ہوا تھا اور ہمارے مکان میں ہی اُس کی رہائش تھی اور میرے والدین نے مجھے گھر سے نکالا ہوا تھا۔ایک دن مہر رلد و جو میرے والد کا دوست تھا، مجھے ملا اور کہا کہ میرے ساتھ چلو۔مولوی محمد علی سے بات کرتے ہیں تاکہ ہمیں بھی سمجھ آجائے کہ آپ کیا کہتے ہیں اور وہ کیا کہتے ہیں؟۔( یعنی مولوی محمد علی جو غیر احمدی تھا اُس کا اور ان کا مقابلہ کرانے لگا۔چنانچہ ان دنوں میں مجھے بہت جوش تھا۔میں فوراً اُس کے ساتھ مولوی محمد علی کے پاس چلا گیا اور جب اُن کے سامنے ہوا تو مولوی صاحب کہنے لگے۔مہر رلدو! اس کافر کو میرے سامنے کیوں لائے ہو؟ مہر رلد و کو یہ بات ناگوار گزری اور مجھے بھی مگر میں چاہتا تھا کہ اس پر