خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 241
خطبات مسرور جلد دہم 241 16 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012 ء خطبہ جمع سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012ء بمطابق 20 شہادت 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - مورڈن - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج بھی میں صحابہ کے کچھ واقعات پیش کروں گا۔جن میں سے سب سے پہلے تو وہ واقعات ہیں جن میں اُن کی ثابت قدمی کا اظہار ہوتا ہے۔حضرت میاں عبداللہ خان صاحب جنہوں نے بیعت تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں کر لی تھی لیکن آپ کو دیکھا نہیں تھا، وہ بیان کرتے ہیں کہ جس سال تحصیل ظفر وال طاعون پڑی ہے، اُس سال میں پلیگ کلرک مقرر ہو کر سیالکوٹ سے ظفر وال گیا۔صبح کے وقت چوہدری محمد حسین صاحب ساکن تلونڈی عنایت خان نے مجھے کہا کہ کیا تم حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانتے ہو۔میں نے سائنس کے لحاظ سے کہا کہ نہیں۔میرے دل میں کوئی تعصب کسی قسم کا نہیں تھا۔آپ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے دعوی کیا ہے کہ وہ مسیح آنے والا میں ہوں اور مسیح بنی اسرائیل فوت ہو گیا ہے۔میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں حضور کو نبی تسلیم کر کے بیعت کا خط اُسی وقت لکھ دیا۔پھر میں ملازمت کے سلسلے میں کراچی اور پھر افریقہ چلا گیا۔میرے والد غیر احمدی تھے۔وہ بیعت کے وقت بالکل مخالف نہیں تھے لیکن علاقے کے وہابیوں میں سر کردہ آدمی تھے۔لوگوں نے انہیں اکسایا کہ آپ کا لڑکا مرزائی ہو گیا ہے۔1911ء میں آپ نے مجھے افریقہ میں خط لکھ دیا کہ حضرت صاحب کو میرے الفاظ میں کہو ( یعنی جو کچھ انہوں نے لکھوایا تھا ) اگر نہیں کہو گے تو میں تم کو اپنی جائیداد سے عاق کر دوں گا۔کہتے ہیں اُس وقت میں کینیا میں سلطان حمود سٹیشن پر سٹیشن ماسٹر تھا۔میں نے آٹھ دس دن خط اپنے پاس رکھا۔ایک رات کو اپنی بیوی سے عشاء کی نماز کے وقت اس کا ذکر کیا۔بیوی