خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 239 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 239

خطبات مسرور جلد دہم 239 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012 ء اللہ تعالیٰ ان تمام صحابہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نسلوں میں بھی صبر اور استقامت اور ثبات قدمی جاری فرمائے اور احمدیت اور خلافت سے ہمیشہ ان کا پختہ تعلق رہے۔آج ابھی نماز جمعہ کے بعد میں ایک دو جنازے پڑھاؤں گا جن میں سے ایک جنازہ حاضر ہے جو مکر مہ امۃ الحفیظ خانم صاحبہ اہلیہ مکرم شمس الحق خان صاحب مرحوم کا ہے۔کچھ عرصہ ہواوہ رہنے کے لئے یہاں آئی تھیں۔اور ان کا کیس وغیرہ بھی پاس ہو گیا تھا لیکن بہر حال 18اپریل کو اُن کی اکاسی سال کی عمر میں وفات ہوگئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یہ لمبا عرصہ کوئٹہ کی صدر لجنہ رہی ہیں۔ان کو بڑی لمبی توفیق ملی ہے۔پھر اُس کے بعد لاہور آئی ہیں تو وہاں اپنے حلقے کی صدر رہی ہیں۔تبلیغ کا بڑا شوق تھا۔یہاں بھی جب آئی ہیں تو اس عمر میں بھی کوشش ی تھی کہ انگریزی کے چند فقرے سیکھ لیں تا کہ تبلیغ کر سکیں۔بڑی نیک، دعا گو، نمازوں کی پابند،نوافل کی پابند ، خدمت خلق کرنے والی اور اس کے جذبے سے سرشار خاتون تھیں۔غریبوں کی ہمدرد تھیں۔خلافت سے بھی غیر معمولی اور والہانہ محبت تھی۔بڑی اخلاص اور وفا سے پر تھیں۔بچوں کی تربیت کا بہت خیال رکھتی تھیں اور انہیں ہمیشہ خلافت اور نظام جماعت کی تلقین کرتی تھیں۔ایک بٹا آٹھ (1/8) حصہ کی موصیہ تھیں۔ان کی حالت تو میں نے دیکھی ہے جماعت سے اور خلافت سے جو وابستگی ہے اس میں یہ بہتوں کے لئے نمونہ تھیں۔پسماندگان میں ان کی چار بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں۔ڈاکٹر مجیب الحق خان صاحب جو ہمارے یہاں لندن ریجن کے زعیم اعلیٰ ہیں ان کی یہ بڑی ہمشیرہ تھیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی تربیت کی ہی وجہ ہے کہ ان کی اولاد کا بھی جماعت اور خلافت سے بے انتہا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ اس تعلق کو بھی بڑھاتا چلا جائے اور اُن کی نسلوں میں بھی جاری رکھے تا کہ یہ جو تعلق ہے اور جماعت سے وابستگی ہے یہ اس وجہ سے مرحومہ کی روح کے لئے بھی تسکین کا باعث بنتا ر ہے۔ان کا ابھی نماز جنازہ جمعہ کے بعد ہو گا۔میں باہر جا کر پڑھاؤں گا۔احباب یہیں صفیں درست کر لیں۔دوسرا جنازہ مکرم سید محمد احمد صاحب کا ہے جو سید محمد افضل صاحب رضی اللہ عنہ صحابی کے بیٹے تھے اور ان کی والدہ استانی سردار بیگم صاحبہ نے بھی لمبا عرصہ سکول میں جماعت کی خدمت کی ہے۔صحابیہ تو نہیں تھیں۔بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں کر لی لیکن دیکھا نہیں تھا، بلکہ شاید اپنے خاوند سے پہلے بیعت کی تھی۔سید محمد احمد صاحب حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے صاحبزادے مرزا خلیل احمد صاحب کے رضاعی بھائی بھی تھے اور حضرت ام طاہر کی بیٹی صاحبزادی امتہ الباسط ان کے دوسرے بھائی