خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 230
خطبات مسر در جلد دہم 230 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012 ء دیا، نوکری سے فارغ کر دیا۔اپنے اور بیگانے سب دشمن ہو گئے۔ایک شخص جو ہمارا ساتھی تھا ، وہ حلوائی کا کام کرتا تھا، سب مسلمانوں نے اتفاق کر لیا کہ اس کی دکان کا سودا کھانا حرام ہے۔( آج بھی پاکستان میں بعض احمدی دکانداروں کے ساتھ یہی ہورہا ہے اور تو اور لاہور ہائی کورٹ بار کے وکلاء نے ایک ریزولیوشن پاس کیا ہے کہ شیزان کیونکہ احمدیوں کا ہے اس کو پینا حرام ہے )۔بہر حال دوکان کا سودا اُس نے کہا حرام ہے۔اس سے مٹھائی نہیں کھانی۔آٹھ دن تک برابر وہ بائیکاٹ کی تکالیف برداشت کرتا رہا، مگر آٹھویں روز اُس سے برداشت نہ ہوا اور اس نے بیعت چھوڑ دی اور مرتد ہو گیا۔کہتے ہیں اب ہم دورہ گئے۔ہم دونوں درزی تھے۔ہم سب کچھ برداشت کرتے رہے۔کہتے ہیں مجھے یاد ہے کہ ان دنوں مجھے کئی کئی دن فاقے کرنے پڑے۔کئی دن کے بعد میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور حالات بیان کئے۔حضور نے نہایت تسلی بخش الفاظ میں فرما یا اگر آپ نے استقلال دکھلایا تو اللہ تعالیٰ بہت جلد یہ دن آپ سے دور کر دے گا اور اچھے دن لے آئے گا۔تو کہتے ہیں کہ پھر ایک سال تک بڑی مشکلات میں گزرتے رہے۔پورا سال انہی مشکلات میں گزر گیا۔روزی کی تکلیف کی وجہ سے کوئی کام نہیں تھا۔اس تکلیف کی وجہ سے میں چند ماہ کے بعد پھر قادیان آیا اور حضور کی خدمت میں رو پڑا اور اپنی تکلیف بیان کی اور عرض کیا کہ حضور ! اجازت دیں تو افریقہ چلا جاؤں۔شاید اللہ تعالیٰ رحم فرما دے۔اس پر حضور نے اول تو فر مایا کہ اس راستے میں مومن کو ابتلا آتے ہیں اور بعض دفعہ وہ سخت بھی ہوتے ہیں۔میں ڈرتا ہوں تم وہاں جا کر کسی سخت ابتلاء میں نہ پڑ جاؤ۔پھر میرے اصرار پر فرمایا۔کل بتلاؤں گا دعا کرنے کے بعد۔چنانچہ دوسرے روز شاید ظہر کی نماز کے وقت فرمایا۔تو کل الہی پر چلے جاؤ (افریقہ چلے جاؤ )۔مگر خیال رکھنا کہ سلسلہ کی خبر جہاں تک ہو سکے لوگوں کو پہنچاتے رہنا۔( جہاں بھی جاؤ تبلیغ کا کام نہیں چھوڑنا۔میں چونکہ ان پڑھ ہوں مگر سلسلہ کے عشق میں مجھ کو اس قدر تبلیغ کا شوق تھا کہ ہر وقت، ہر آن تبلیغ کا خیال رہتا تھا۔(وہاں بھی پھر تبلیغ کرتے رہے۔) (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 410 تا 418) پھر حضرت غلام محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے لاہور کے سفر کا حال بیان کرتے ہیں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور میں تشریف لائے تھے تو ان دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لیکچر ہورہاتھا۔لیکچر لاہور ہوتا تھا۔اشتہارات چسپاں کئے جاتے تھے۔چوہدری اللہ دیتا صاحب مرحوم جو نمبر دار تھے موضع میانوالی خانہ والی تحصیل نارووال کے ، وہ لئی کی دیکچی سر پر اٹھائے ہوئے شہر میں ہر جگہ اشتہار چسپاں کرتے تھے اور اس کو دیکھ کر مخالفین نے اُن کو کئی دفعہ مارا پیٹا، زدوکوب کیا۔