خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 224 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 224

خطبات مسرور جلد دہم 224 15 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012 ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012ء بمطابق 13 شہادت 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - مورڈن - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” جب تک استقامت نہ ہو بیعت بھی نا تمام ہے۔انسان جب خدا تعالیٰ کی طرف قدم اُٹھاتا ہے تو راستہ میں بہت سی بلاؤں اور طوفانوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔جب تک اُن میں سے انسان گزرنہ لے منزل مقصود کو پہنچ نہیں سکتا۔فرمایا کہ ” امن کی حالت میں استقامت کا پتہ نہیں لگ سکتا کیونکہ امن اور آرام کے وقت تو ہر ایک شخص خوش رہتا ہے اور دوست بنے کو تیار ہے۔مستقیم وہ ہے کہ سب بلاؤں کو برداشت کرے۔“ وو ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 515 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ نے ایک جگہ یہ تلقین فرماتے ہوئے کہ استقامت کس طرح حاصل ہو سکتی ہے فرمایا کہ: درود شریف جو حصول استقامت کا ایک زبر دست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو۔مگر نہ رسم اور عادت کے طور پر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور احسان کو مد نظر رکھ کر اور آپ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لیے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبولیت دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا“۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 38 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ) پھر ایک موقع پر اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ” دل کی استقامت کے لئے بہت استغفار پڑھتے رہیں۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 183 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کی کچھ روایات جن میں اُن کے