خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 217
خطبات مسرور جلد دہم 217 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 اپریل 2012 ء فون کر سکتے تھے تو یہاں بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے جہاں صوبائی حکومت بھی ہمارے خلاف ہے۔اب جب ان پولیس افسران کے خلاف پرچہ کی کوشش ہو رہی ہے تو حکام بالا کی طرف سے صلح صفائی کے لئے دباؤ بھی ڈالا جارہا ہے کہ صلح کر لوں۔گو پاکستان میں مجرم جو ہیں وہی صاحب اقتدار بھی ہیں اور انصاف کی امید بظاہر نہیں ہے لیکن قانون کے اندر رہتے ہوئے جماعت تمام ذرائع استعمال کر رہی ہے اور انشاءاللہ کرے گی۔بہر حال اگر یہ کسی قسم کی تحریر جو پولیس کی پسند کی تھی اُس پر دستخط کر دیتے تو یہ بہت خطر ناک ہوسکتا تھا۔قتل کے جھوٹے مقدمے میں جیسا کہ میں نے بتایا مرکزی عہدیداران کو گرفتار کرنا تھا۔مرکزی دفاتر پر پابندی ہو سکتی تھی۔جماعت کی تعلیم اور کوششوں کو کہ ہم امن پسند جماعت ہیں بد نام کرنے کی کوشش ہوسکتی تھی۔اور بھی بہت ساری ایسی باتیں ہو سکتی تھیں جن سے جماعت کو نقصان پہنچتا۔نہ صرف ملکی طور پر بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی۔بہر حال انہوں نے ایک ٹکر کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے مخلص کے ذریعہ جو عام زندگی میں انتہائی نرم دل تھا ، جس کو اس قسم کی سختیوں کا تصور بھی نہیں تھا، اُس کے ذریعے سے ان کے مکر کو توڑا اور وہ ان کے جھوٹوں اور مکروں کے سامنے ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑا ہو گیا اور جماعت پر آنچ نہیں آنے دی۔پس اے قدوس! ہم تجھے سلام کرتے ہیں کہ تو نے اپنے آپ کو انتہائی اذیت میں ڈالنا تو گوارا کر لیا لیکن جماعت کی عزت پر حرف نہیں آنے دیا۔تو نے اپنی جان دے کر جماعت کو ایک بہت بڑے فتنے سے بچالیا۔پس ماسٹر عبدالقدوس ایک عام شہید نہیں ہیں بلکہ شہداء میں بھی ان کا بڑا مقام ہے۔اس عارضی دنیا سے تو ایک دن سب نے رخصت ہونا ہے، لیکن خوش قسمت ہیں ماسٹر عبدالقدوس صاحب جن کو خدا تعالیٰ نے زندہ کہا ہے۔اور وہ ایسے رزق کے پانے والے بن گئے ہیں جو دنیاوی رزقوں سے بہت اعلیٰ و ارفع ہے۔جس جماعت اور جس مقصد کی خاطر انہوں نے قربانی دی ہے اُس کے بارے میں حقیقی خوشخبریوں کا پتہ تو انہیں اُس جہان میں جا کر چلا ہوگا۔لیکن شہید مرحوم ہمیں جو سبق دے گئے ہیں ہمیں اُسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَکیل کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔پس جیسے بھی حالات گزر جائیں اللہ تعالیٰ کا دامن نہ چھوڑنا۔یہ سبق انہوں نے دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس طرح بیان فرمایا ہے کہ دنیا والے تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اگر اللہ تعالیٰ سے تمہارا مضبوط تعلق ہے۔یہ لوگ جو اپنے زعم میں احمدیوں کو گالیاں نکال کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق