خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 212
خطبات مسرور جلد دہم 212 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 اپریل 2012 ء عطا فرمائی اور بہت سوں کو وہ استقامت بخشی جس سے انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے وقت آنے پر پیش کئے۔اُن پہلے شہداء کی قربانیوں کے تسلسل کو پاکستان کے احمدیوں نے سب سے زیادہ جاری رکھا اور سینکڑوں میں اپنی قربانیاں پیش کیں۔ہر شہید نے ایمانی حرارت اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ہر شہید احمدیت کا اپنا اپنا ایک رنگ ہے جس کے ساتھ اُس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، جس میں انڈونیشیا کے شہید بھی شامل ہیں ، ہندوستان کے بھی اور دوسرے ممالک کے بھی۔لیکن بعض نمایاں ہو جاتے ہیں۔1974ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف جو فسادات ہوئے تھے، اُن میں تیس پینتیس احمدی شہید کئے گئے تھے۔لیکن بعض ایسی حالت میں شہید ہوئے کہ انہیں اذیت دے دے کر شہید کیا گیا۔باپ اور بیٹے کو شہید کیا گیا۔باپ کے سامنے بیٹے کو اذیت دی جاتی تھی۔بیٹے کے سامنے باپ کو اذیت دے کر یہ کہا جاتا تھا کہ احمدیت سے تائب ہوتے ہو یا نہیں ؟ اور یہ سب کچھ صرف لوگ نہیں کر رہے تھے بلکہ وہاں کی پولیس بھی سامنے کھڑی یہ تماشا دیکھ رہی ہوتی تھی۔انڈونیشیا میں سر عام پولیس کی نگرانی میں اور ریاستی کارندوں کی نگرانی میں دہشتگردی کا نشانہ بنا کر اور اذیت دے دے کر احمدیوں کو شہید کیا گیا لیکن ایمان کی حفاظت کرنے والوں اور استقامت کے پتلوں نے اپنے جسم کے روئیں روئیں پر زخم کھا لیا، ایک ایک انچ پر زخم کھا لیا لیکن ایمان کو ضائع نہیں ہونے دیا۔پس چاہے پاکستان کا قانون ہو یا انڈونیشیا کا یا کسی بھی اور ملک کا یہ احمدیوں کی زندگیوں کو تو چھین سکتا ہے لیکن اُن کی وفاؤں کو نہیں چھین سکتا۔اب سنا ہے ملائشیا بھی اس قانون کے ذریعے اس صف میں آرہا ہے بلکہ آچکا ہے۔انہوں نے بھی ایک نیا قانون بنایا ہے جو ظاہر ہو رہا ہے۔یہ بھی آزما کر دیکھ لیں لیکن یہ یادرکھیں کہ جب خدا کی تقدیر اپنا کام شروع کرے گی تو حساب چکانا مشکل ہو جائے گا۔پھر کوئی ملاں اور کوئی قانون ان کو بچانے کے لئے آگے نہیں بڑھے گا بلکہ یہ نام نہاد علماء جورحمۃ للعالمین کے نام کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں، مجرموں کے کٹہرے میں سب سے پہلے کھڑے کئے جائیں گے اور احمدیوں کا ایمان اور صبر اور استقامت ایک شان کے ساتھ چمک رہا ہوگا۔پس احمدیوں کو اس بات کی فکر نہیں۔انہیں پتہ ہے کہ انجا مکار انہی کی فتح ہے۔قربانیاں تو قو میں دیتی ہیں، وہ بھی دے رہے ہیں۔لیکن ان قربانیوں کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔اس لئے یہ قربانیاں جو احمدی دیتے رہے ہیں، اب بھی دے رہے ہیں اور آئندہ بھی دیتے رہیں گے یہ کوئی بلا مقصد